’بہتری کا خواب آنکھوں میں سجائے واپسی ہوئی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Nimra Gillani
Image caption نمرہ کا کہنا ہے کہ کیوبا سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے گروہ نے کیوبا کے نظام کو پاکستان میں متعارف کروانے کے لیے حکومت سے رابطہ بھی کیا

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اکتوبر سنہ دو ہزار پانچ کے تباہ کن زلزلے سے ہونے والے نقصانات سے نمٹنے اور زخمیوں کی امداد کے لیے بڑے پیمانے پر بین الاقوامی امداد آئی۔

مشکل کی اس گھڑی میں بڑی تعداد میں غیر ملکی امدادی کارکن اور ڈاکٹروں نے بھی پاکستان کا رخ کیا جن میں بڑی تعداد کیوبا سے آئے ہوئے طبی عملے اور ڈاکٹرز کی تھی۔

پاکستانی تاریخ کے سب سے تباہ کن زلزلے کے دس برس بعد: خصوصی ضمیمہ

کیوبا کے اس وقت کے سربراہ فیدل کاسترو نے ایسے میں کشمیر کے طلبہ کے لیے سکالر شپ کا اعلان کرتے ہوئے یہاں کے ایک ہزار طلبا کو ڈاکٹر بنانے کا اعلان کیا۔

اس منصوبے کے تحت بعد ازاں نہ صرف کشمیر بلکہ پاکستان بھر سے ایک ہزار طلبا اور طالبات کو طب کی تعلیم کے لیے کیوبا بلایا گیا اور یہ طلبا اور طالبات دو مرحلوں میں کیوبا گئے۔

کیوبا کی حکومت اور پاکستان ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے اس پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں کیوبا جانے والے ساڑھے چھ سو طلبا و طالبات میں کم سے کم پچاس کا تعلق کشمیر سے تھا اور ان میں نمرہ گیلانی بھی تھیں۔

ان طلبا کے کیوبا جانے کا سبب زلزلہ تھا تو اس حوالے سے وہاں اس کا ذکر کن الفاظ میں ہوا۔ اس بارے میں نمرہ کہتی ہیں ’کئی لوگ اس سے متاثر ہوئے ، کئی کے خاندان کے افراد جانوں سے گئے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سب نارمل ہونے لگے تھے۔‘

ان کے مطابق ’ہم لوگ بھی اس موقعے کو خوش قسمتی سمجھتے ہوئے یہ منصوبہ بندی کرتے تھے اچھے ڈاکٹرز بن کے جائیں گے تو ہمیں کیا کرنا ہے اور ہم کس طرح واپس جا کر بہتری لا سکتے ہیں۔‘

نمرہ زلزلے کے دوران خاندان کے بکھر جانے کے باعث رابطہ نہ ہونے پر ہونے والے کرب کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ وقت کافی پریشان کن تھا۔ زلزلے میں ان کے خاندان میں بھی جانی نقصان ہوئے اور باقی کا خاندان جب راولپنڈی آیا تو سب نے انھیں مستقل طور پر وہیں منتقل ہو جانے کا مشورہ دیا تاہم حالات بہتر ہوتے ہی سب لوٹ گئے۔

نمرہ اور ان کے ساتھ جانے والے تمام طلبہ اور طالبات سات سال بعد کیوبا سے لوٹے۔ ایک سال انھیں وہاں کی زبان سکھائی گئی جبکہ پانچ سال میڈیسن کی تعلیم کے بعد انھوں نے ایک سال وہاں ہاؤس جاب کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Nimra Gillani

نمرہ کا کہنا ہے کہ کیوبا سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے گروہ نے کیوبا کے نظام کو پاکستان میں متعارف کروانے کے لیے حکومت سے رابطہ بھی کیا اور وہ دیہی علاقوں میں جا کر کام کرنے کو بھی تیار تھے۔

’ہم لوگوں نے خود پاکستان اور کشمیر کی حکومت سے رابطہ کیا۔ تاہم ہمیں یہاں بھی امتحان دینا پڑا۔ ان امتحانات کا نیتجہ بہت اچھا آیا۔ 76 فیصد نتیجوں کے بعد اب سب کو رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنر کی سند کا انتظار ہے تاکہ وہ ملازمت کر سکیں۔‘

نمرہ نے بتایا کہ تعلیم مکمل ہونے پر گریجویشن کی تقریب میں ایک بار پھر ان کے کیوبا آنے کے مقصد کو یاد کیا گیا اور اس موقعے پر طلبا نے ایک خاموش خاکہ پیش کیا جس میں زلزلے کے مناظر اور اس سے ہونے والے تباہی دکھائی گئی اور ایسے میں ڈاکٹرز کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔

اب نمرہ شادی شدہ ہیں۔ چند روز قبل ہی انھوں نے اپنے ساتھ ہی کیوبا سے ڈاکٹر بن کر لوٹنے والے ایک طالب علم سے شادی کی ہے اور وہ خوش ہیں کہ انھیں ایک ایسا جیون ساتھی ملا ہے جس کا نہ صرف پیشہ بلکہ مستقبل کے خواب بھی انہی جیسے ہیں۔