شامی باغیوں کی تربیت کے امریکی پروگرام میں تبدیلیاں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی وزیر دفاع اس پروگرام سے مطمئن نہیں

امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر کا کہنا ہے کہ شام میں باغیوں کو اسلحہ اور تربیت دینے کے منصوبے کو ازسرنو تشکیل دیا جا رہا ہے۔

وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے لندن میں اپنے برطانوی ہم منصب سے ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ شامی باغیوں کے پروگرام پر عمل درآمد میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاہم بنیادی مقاصد وہی رہیں گے۔

’صرف چار یا پانچ ہی لڑ رہے ہیں‘

’امریکی تربیت یافتہ باغیوں نے اسلحہ النصرہ فرنٹ کو دے دیا‘

’ہم کئی ہفتوں سے اس پروگرام کو بہتر بنانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ میں پہلے کی جانے والی کوششوں سے مطمئن نہیں، تو اب ہم اس سے مختلف طریقوں کو دیکھ رہے ہیں تاکہ پہلے سے طے کردہ بنیادی دفاعی مقصد حاصل کیا جا سکے۔‘

انھوں نے کہا ہے کہ اس مقصد کے تحت زمین پر موجود اہل اور جذبہ رکھنے والی فورسز کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ سے اپنے علاقے واپس لے سکیں اور شام کو شدت پسندی سے آزاد کرائیں۔‘

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ انھیں ان اطلاعات پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی ہے کہ شام میں روسی فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ صدر اوباما باغیوں کے پروگرام میں کئی جانے والی تبدیلیوں کے بارے میں جلد ہی اعلان کرنے والے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی وزیر دفاع نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کی تردید کی کہ اوباما انتظامیہ کی جانب سے شام میں باغیوں اسلحہ اور تربیت دینے کا 50 کروڑ ڈالر کا منصوبہ ختم کیا جا رہا ہے۔

ایک برس قبل ستمبر امریکی کانگریس نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف اہم حکمتِ عملی کے تحت 5,000 باغیوں کو تربیت، اسلحہ اور دیگر سامان فراہم کرنے کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی منظوری دی تھی۔ تاہم گذشتہ ماہ ہی ایک امریکی جنرل نے تسلیم کیا تھا کہ یہ منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے۔

جنرل لائیڈ آسٹن نے سینیٹ کے اراکین کو اس وقت امریکی تربیت یافتہ باغیوں میں سے صرف چار یا پانچ افراد ہی لڑ رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پہلے 54 تربیت یافتہ باغیوں کو القاعدہ سے منسلک گروہ نے ختم کر دیا تھا جبکہ اس پر رپبلکن سینیٹر کیلی آیوٹے نے کہا کہ باقی افراد کی تعداد ایک ’مذاق‘ ہے۔

اس کے بعد امریکی فوج کی جانب سے ملنے والی معلومات کے مطابق جن شامی باغیوں کو تربیت دی گئی تھی ان میں سے کچھ نے اپنا اسلحہ اور گاڑیاں القاعدہ سے منسلک جنگجوؤں کے حوالے کی ہیں۔

اسی بارے میں