امریکہ مزید نئے شامی باغیوں کو تربیت نہیں دے گا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شامی باغیوں کو تربیت دینے کا امریکی پروگرام شدید تنقید کی زد میں رہا ہے

امریکہ نے شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے لڑنے کے لیے نئے باغیوں کی تربیت اور انھیں اسلحہ اور دیگر سازوسامان کی فراہمی کا سلسلہ ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب اسلحہ اور دیگر سازوسامان انھی باغیوں کو فراہم کیا جائے گا جو پہلے سے برسرِپیکار ہیں۔

’صرف چار یا پانچ ہی لڑ رہے ہیں‘

’امریکی تربیت یافتہ باغیوں نے اسلحہ النصرہ فرنٹ کو دے دیا‘

اس پروگرام کے تحت شام میں نئے باغیوں کو اسلحہ اور تربیت دینے پر 50 کروڑ ڈالر خرچ کیے جا رہے تھے اور اس کا ہدف رواں برس 5400 اور 2016 میں مزید 15 ہزار باغیوں کی تربیت تھا۔

گذشتہ ماہ امریکی جنرل لائیڈ آسٹن نے تسلیم کیا تھا کہ یہ منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے اور اب امریکی تربیت یافتہ باغیوں میں سے صرف چار یا پانچ افراد ہی لڑ رہے ہیں۔

ان کے اس اعتراف کے چند دن بعد یہ خبر سامنے آئی تھی کہ دوسرے گروپ کے تربیت یافتہ باغیوں نے محفوظ راستہ پانے کے لیے اپنے ہتھیار اور گاڑیاں جبل النصرہ کے ہی شدت پسندوں کے حوالے کر دی تھیں۔

اس تربیتی پروگرام سے وابستہ ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ اس منصوبے کو ’روکا‘ جا رہا ہے تاہم مستقبل میں اسے دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’پروگرام قابلِ ذکر مشکلات کا شکار رہا ہے۔ بھرتی کے معاملے میں ہمارا معیار بہت بلند تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اب ہم مختلف طریقوں کو دیکھ رہے ہیں تاکہ پہلے سے طے کردہ بنیادی دفاعی مقصد حاصل کیا جا سکے: ایشٹن کارٹر

عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ ’امریکہ اب بھرتی ہونے والی ہر فرد کی چھان بین نہیں کرے گا اور یہ عمل ان گروپوں کے رہنماؤں تک محدود رہے گا جن کے ساتھ وہ کام کرنا چاہے گا اور ان رہنماؤں کو سخت چھان بین کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی وزراتِ دفاع کے ذرائع کے حوالے کہا ہے کہ امریکہ اب مزید شامی باغیوں کو اردن، قطر، سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات میں تربیت دینے کے لیے بھرتی نہیں کرے گا۔

اخبار کے مطابق اب امریکہ اس کی بجائے ترکی میں ایک چھوٹا تربیتی مرکز قائم کرے گا جہاں شامی حکومت کے مخالف گروپوں کے رہنماؤں کو میدانِ جنگ کی حکمتِ عملی کی تعلیم دی جائے گی۔

امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے بھی لندن میں کہا ہے کہ شام میں باغیوں کو اسلحہ اور تربیت دینے کے منصوبے کی از سرِ نو تشکیل کی جا رہی ہے تاہم بنیادی مقاصد وہی رہیں گے۔

جمعے کو لندن میں اپنے برطانوی ہم منصب سے ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں پہلے کی جانے والی کوششوں سے مطمئن نہیں، تو اب ہم اس سے مختلف طریقوں کو دیکھ رہے ہیں تاکہ پہلے سے طے کردہ بنیادی دفاعی مقصد حاصل کیا جا سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس مقصد کے تحت زمین پر موجود اہل اور جذبہ رکھنے والی افواج کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ سے اپنے علاقے واپس لے سکیں اور شام کو شدت پسندی سے آزاد کرائیں۔‘

اسی بارے میں