قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں انسداد پولیو مہم کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خیبر پختونخوا میں رواں سال اب تک 15 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور سب سے زیادہ بچے پشاور میں متاثر ہوئے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں سنیچر سے انسداد پولیو مہم آغاز ہو گیا ہے جس میں 42 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

فاٹا اور خیبر پختونخوا سے رواں سال اب تک 26 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جو گذشتہ سال کی نسبت کم ہے۔

خیبر پختونخوا میں پولیو میں 75 فیصد کمی

کراچی میں پولیو مہم کے دوران سال کے پہلے کیس کی تصدیق

اس مہم کے دوران خیبر پختونخوا کے 13 اضلاع میں موبائل اور موقعے پر موجود ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ صوبے میں حکام نے 33 لاکھ کے لگ بھگ بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے دینے کا حدف رکھا ہے اور اس کے لیے دس ہزار سے زیادہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

ان ٹیموں میں بڑی تعداد موبائل ٹیموں کی ہے جو گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو یہ قطرے پلائیں گی جبکہ اس کے علاوہ موقع پر موجود اور راستوں پر تعینات ٹیمیں بھی مہم کے دوران بچوں کو اس مرض سے بچاؤ کے قطرے دیں گی۔

اسی طرح قبائلی علاقوں میں بھی سنیچر سے چار روزہ انسداد پولیو مہم شروع کر دی گئی ہے جہاں حکام کے مطابق تقریباً ساڑھے نو لاکھ کے قریب بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے دیے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شعیب بابر کے مطابق یہ ٹیمیں تمام قبائلی اور نیم قبائلی علاقوں میں جائیں گی

فاٹا میں انسداد پولیو مہم کے ترجمان شعیب بابر نے بتایا کہ اس مہم کے لیے تین ہزار سے زیادہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان ٹیموں کی حفاظت کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں جیسے کے ان کے ہمراہ فوج کے علاوہ پولیٹکل انتظامیہ نے بھی لیویز اور خاصہ دار فورس کے اہلکار تعینات کیے ہیں۔

شعیب بابر کے مطابق یہ ٹیمیں تمام قبائلی اور نیم قبائلی علاقوں میں جائیں گی جبکہ وہ علاقے جہاں انھیں رسائی حاصل نہیں ہے وہ رہ جائیں گے لیکن ان کے لیے راستوں میں ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو موجود رہیں گی۔

فاٹا میں اس سال اب تک 11 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ گذشتہ سال قبائلی علاقوں سے 179 بچے اس وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔

خیبر پختونخوا میں رواں سال اب تک 15 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور سب سے زیادہ بچے پشاور میں متاثر ہوئے ہیں۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ پشاور میں چند ایک مقامات پر نکاسی آب کے نالوں میں یہ وائرس پایا جاتا ہے۔

فاٹا اور خیبر پختونخوا میں جہاں ایک طرف اس وائرس سے بچے متاثر ہو رہے ہیں وہاں دوسری جانب انسداد پولیو مہم کے اراکین پر حملوں سے بھی اس مرض پر قابو نہیں پایا جا سکا۔

اسی بارے میں