متحدہ قومی موومنٹ کا مزید نو ارکان گرفتار کیےجانے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایم کیو ایم کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ان کے 15 کارکنوں کوگرفتار کیاجا چکا ہے

پاکستان میں حزب مخالف کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفے واپس لینے کا اعلان کرنے کے ایک روز بعد ہی دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت کے خلاف جاری آپریشن میں رینجرز اور پولیس نےمزید نو کارکنوں کوگرفتار کیا ہے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیہ کےمطابق: ’رینجرز اور پولیس نے کراچی کے علاقوں نارتھ ناظم آباد ، شاہ فیصل کالونی اور کورنگی میں سنیچر کی صبح ایم کیو ایم کے کارکنوں کےگھروں پر چھاپے مارے اورمزید نو کارکنوں کوگرفتار کر لیا ہے۔‘

ایم کیو ایم جا اسمبلیوں سے استعفے واپس لینے کا اعلان

ایم کیو ایم کے مطابق جمعہ کو بھی چھ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا اس طرح گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے مطابق اس کے 15 کارکنوں کو گرفتار کیاجاچکا ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں جاری آپریشن کے دوران مبینہ طور پر ان کے کارکنوں کی بلاجوازگرفتاریوں سمیت اغوا اور ماورائے عدالت قتل کرنے کے خلاف 12 اگست کو سینٹ ، قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی سے استعفے دیے تھے۔

تاہم گذشتہ روز ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفے واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن کےدوران ایم کیو ایم یا کسی بھی جماعت کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جو 90 روز میں کسی بھی جماعت یا فرد کے تحفظات کو دور کرے گی۔

ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ حکومتی کمیٹی کے ساتھ الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی اُٹھانے اور ایم کیو ایم کے فلاحی اداروں پر پابندی اُٹھانے کے بارے میں بھی بات چیت ہوتی رہے گی۔

اسی بارے میں