’میربانی، ڈاکٹر ساب میربانی‘

کُلاچ سے کیلاش ایک قسط وار سفرنامہ ہے جو کراچی سے وادی کیلاش تک ہمارے ساتھی شرجیل بلوچ نے چند منچلے خواتین و حضرات کے ساتھ طے کیا ہے۔ راستہ تو خوبصورت ہے ہی، مگر راہی بھی کم نہیں۔یہ سفر نامہ ہر اتوار کو قسط وار شائع کیا جاتا ہے۔ پیش ہے دسویں قسط

Image caption سامنے (جاوید۔ راول۔ عرفان)۔پیچھے ( حسان، سمیع) آخر میں( فیضان اور راجھ شرما)

دیر بالا کا دن بہت روشن اور نرم گرم سا تھا۔ یار لوگ ناشتہ کر چکے تھے۔ مگر راول اور فیضان آج بھی ہمیشہ کی طرح پیپر ختم ہونے کے قریب ہال میں داخل ہوئے اور اگلے پانچ منٹ میں پیپر مکمل کر کے کمرے سے باہر کھڑے دھواں اڑا رہے تھے۔ جیسے یہ بھی کوئی کام تھا بھلا؟

یہ دونوں انگلش میڈیم لڑکے سفر میں زیادہ تر خاموش رہے تھے مگر ایسا بالکل نھیں تھا کہ وہ بور ہو رہے ہوں۔ راول کے پاس ہر سوال کا لوجیکل اور بے ساختہ جواب ہوتا ہے۔ گذشتہ رات میں نے اس کی کمر تھپتھپاتے ہوئے کہا: تم نر بچے ہو۔ آنکھ مار کر ہنستے ہوئے بولا کیا کہا؟ خر بچہ ہوں ؟ بولتا اور ہنستا بھی برٹش انداز میں ہے۔

کلاچ سے کیلاش تک : پہلی قسط

گنڈا سنگھ والے کا دنگل: دوسری قسط

قصہ قصور کا: تیسری قسط

میں ہوں عادل لاہوڑی: چوتھی قسط

جھیل میں بیٹھی بوڑھی دلہن: پانچویں قسط

کھیوڑہ کا نمک زاد: چھٹی قسط

کٹاس کا طلسم کدہ: ساتویں قسط

ایبٹ آباد کا جدون باغ: آٹھویں قسط

ایبٹ آباد سے دیر بالا: نویں قسط

اُسے افغانستان ، ایران اور سینٹرل ایشیا کے رسم و رواج اور لہجوں کی بہت اچھی پہچان ہے۔ لندن میں اس کے بیشتر دوست ایرانی اور افغانی ہیں۔ لیکن پتہ نہیں اُسے بلوچستان اور بلوچوں سے اتنی دلچسپی کیوں ہے۔اس کے سوالوں کے جواب دینا اکثر مشکل ہوجاتا ہے۔ شاید اس کے اندر بھی کوئی خانہ بدوش رہتا ہے۔

ہمارا اصل سفر آج شروع ہونا تھا۔چترال سے دو لینڈ کروزر جیپیں ہمیں لینے کے لیے روانہ تھیں۔ جب تک سامان ہوٹل کے صحن میں جمع ہوا ایک جیپ پہنچ گئی۔ بزرگوں اور خواتین کو بلال اور رضوان کے ساتھ روانہ کیا اور لاہوری ڈرائیور کی کوچ میں بھاری سامان رکھ کر اس کو وہیں رکنے کی ہدایت کی۔

Image caption دیر بالا کے ہوٹل سے رمبور کے لیے نکلتے ہوئے

اتنی دیر میں ہماری جیپ اپنا ٹوٹا ہوا ٹائے راڈ بنوا کر پہنچ گئی۔ ہم دس لوگ کیمروں کے بیگز اپنی اپنی گودوں میں لیے ٹھس ٹھسا کراس جیپ میں گھس گئے۔ عادل اور جاوید دونوں جیپ کی چھت پر چڑھ گئے۔ کہ ۔۔ آج میں اوپر۔۔ آسمان نیچے ۔۔ آج میں آگے۔۔ زمانہ ہے پیچھے۔

ہمارے اندر اس بچے والی ایکسائیٹمنٹ تھی جسے رولر کوسٹر میں بٹھا دیا گیا ہو۔اپر دیر سے لواری پاس کی طرف جاتے ہوئے وہ کشادہ سی سڑک پہاڑ کے گرد گھومتے ہوئے اوپر جا رہی تھی۔

ہمارے سیل فونز پہاڑوں کی چوٹیوں پہ پڑی چمکتی برف کو دیکھ کر بار بار آنکھیں جھپکاتے تھے۔ پہاڑوں پرگہرا سبزا کہیں کہیں سیاہ ہوجاتا تھا اور آسمان نیلا نہیں بلکہ نیلم لگ رہا تھا۔

آہستہ آہستہ برف والے پہاڑوں نے ہمیں اپنے گھیرے میں لینا شروع کر دیا اور سڑک ناہموار ہونے لگی۔ لواری پوسٹ ابھی کافی اوپر تھی جب ہماری لیفٹ ہینڈ لینڈ کروزر،گاڑیوں کی ایک لمبی قطار میں پہنچ کر رک گئی۔اسی اثنا میں کچھ فوجی جیپیں اور ٹرک ہمیں کراس کرتے ہوئے گزرگئے۔

Image caption لواری پوسٹ کی طرف جاتے ہوئے جب راستہ بند ملا

ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ اتریں یا نہیں کہ ڈرائیور حبیب الرحمان تیزی سے جیپ میں چڑھا اور ایکسلریٹر دبا دیا۔ جیپ ایک جھٹکے سے آگے روانہ ہوئی اور ہمارے دل اچھل کر حلق میں آگئے۔جیسے اب رولر کوسٹر اپنا کام دکھائےگا۔مگرکوئی سات آٹھ گاڑیوں کو اوور ٹیک کرتے ہی رولر کوسٹر پھر رک گیا۔

راستے میں ایک ٹرک کے سائیڈ پر گرنے سے یہ راستہ اب ایک لین کے لیے رہ گیا تھا۔ اس بار حبیب کو اندازہ ہوگیا کہ وقت زیادہ لگے گا۔ تم لوگ پوٹُو موٹو کینچو۔ ام جب تک نماز پڑے گا۔ یہ کہتے ہوئے وہ اتر گیا۔

جیپ ایسی ڈھلوان پر کھڑی تھی جہاں ہزاروں فٹ نیچے بل کھاتی ہوئی سڑک دکھائی دے رہی تھی۔ ہم یوں تیزی سے باہر نکلے جیسے ذرا سی بھی دیر ہوئی تو رولر کوسٹر بنا بریک کے پیچھے روانہ ہو جائیگا۔

Image caption کشور کے بس میں نہیں تھا کہ وہ ان وادیوں میں اڑتے ہوئے تصویریں بنواتی

گو کہ لواری ٹاپ ابھی آدھا گھنٹہ مزید اوپر ہے لیکن وہ پہاڑوں کے درمیان اڑتی ہوئی چیل کتنی نیچے نظر آ رہی ہے۔ یار لوگوں کے کیمرے کلکس پر کلکس مار رہے ہیں، گروپ سیلفیاں بن رہی ہیں۔ عادل میری طرف تیز تیز آیا اور بولا ایک بچہ زخمی ہے چل کر ذرا دیکھ لیں؟

روڈ کنارے ایک پٹھان 12 یا 13 سالہ بچے کو گود میں گٹھڑی کی طرح سمیٹے بیٹھا تھا۔ بچے کے سر پر ڈسپینسری کی پٹی اچھی طرح لپیٹی گئی تھی مگر رستے ہوئے خون کے خشک نشانات اس پٹی کے کنارے پر نظر آ رہے تھے۔ اس کی آنکھوں کے نیچے سیاہ نیل پڑ چکے تھے جو کہ ہیڈ انجری کا ثبوت تھے۔

اس کے ہاتھ میں ڈرپ کا کینولا بہت گندا ہو چکا تھا اور چہرہ زرد ۔ میرے پوچھنے پر اس نے ڈوبی ہوئی آواز میں اپنا نام بتایا۔ یہ ایک اچھی نشانی تھی۔ اس شخص کو سمجھایا کہ وہ بچے کو گاڑی کی نشست پر لٹا کر اس پر کوئی گرم کمبل ڈال دے۔

ٹیک ڈاکٹر صاب ٹیک کہتے ہوئے اس نے بچے کو گاڑی میں لٹا دیا۔ اونی شال کی گرمی محسوس کرتے ہوئے بچے نے اپنا ایک پیر دوسرے پیر پر رگڑا۔ اس کے پاؤں میں ابھی تک کانچ کا ایک ٹکڑا پھنسا ہوا تھا۔ اس کے نکلتے ہی لڑکے کو جیسےآرام سا آ گیا۔

وہ اب سونا چاہتا تھا۔ پیرا سیٹامول اور او آر ایس کا پانی لیتے ہوئے اس شخص کے منہ سے میربانی، ڈاکٹر ساب میربانی۔۔ کی مسلسل آوازیں نکل رہی تھیں۔انھیں پشاور پہنچنا تھا جو ابھی کئی گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ اور کیلاش کی طرف ہمارا سفر بھی۔۔۔

Image caption اس مریض بچے کو پشاور پہنچنے میں کئی گھنٹے درکار تھے۔ اورمنزل تک ہمیں بھی

اسی بارے میں