فرقہ وارانہ امن کی رسم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں اس سال بھی محرم الحرام کے آغاز سے پہلے امن و امان کے قیام کے لیے اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے

پاکستان میں جب بھی گندم کی کٹائی کا موسم آتا ہے تو آٹے اور گندم کی بین الاضلاعی و بین الصوبائی نقل و حمل پر عارضی پابندی لگا دی جاتی ہے۔ اسی طرح جب محرم اور ربیع الاول شروع ہوتا ہے تو مختلف فرقوں کے متنازع مولاناؤں اور ذاکرین پر عارضی سفری پابندی عائد کیے جانے کا رواج ہے۔

اس بار بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ حکومتِ پنجاب نے ایک سو نوے علما اور زاکروں کے راولپنڈی ڈویژن میں داخلے پر محرم کے دوران پابندی عائد کر دی ہے تاکہ ان کی شعلہ بیانی سے محفوظ رہا جا سکے۔

پاکستان میں بڑھتا ہوا فرقہ وارانہ تشدد

فرقہ واریت پر مبنی تقریر پر امام مسجد کو سزا

ان میں سے 95 علما دیوبندی، 77 شیعہ اور 18 بریلوی مسلمان ہیں۔ اگر کسی نے مذکورہ مولویانِ و ذاکرین کرام کو خطاب کے لیے مدعو کیا تو اس کے خلاف بھی پرچہ کٹے گا۔

ان میں سے 91 علماِ عظام ضلع اٹک میں، 45 چکوال میں، 39 ضلع راولپنڈی میں اور 18 ضلع جہلم کی حدود میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔

گویا جن مولوی صاحبان پر اٹک میں داخلے پر پابندی ہے وہ چکوال میں اور جن پر چکوال میں پابندی ہے وہ جہلم میں اپنے مداحوں کے دل و دماغ میں آتشیں گل کھلا سکتے ہیں؟

یعنی جن 190 علما پر پنڈی ڈویژن میں جوہرِ خطابت دکھانے پر پابندی ہے وہ اب پنجاب کے دیگر انتظامی ڈویژنوں میں جا کے جوہرِ شعلہ فشانی آزمانے میں آزاد ہیں۔

اور جو علما و ذاکرین امن و امان کے لیے خطرہ ہیں ان پر پابندی صرف مخصوص دنوں میں ہی کیوں ؟ سال کے 365 دنوں کے لیے کیوں نہیں ؟ کیا باقی دنوں میں ان کے منہ سے بین المسلکی ہم آہنگی کے پھول جھڑتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ساتھ ہی ساتھ محرم الحرام کے آغاز سے پہلے پہلے اس بار بھی امن و امان کے قیام کے لیے وہی روایتی اقدامات کیے جا رہے ہیں جو لوگ باگ باپ دادا کے زمانے سے دیکھتے آ رہے ہیں یعنی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے امن کمیٹیوں کا قیام ، دو اور تین کالمی پریس ریلیز شائع کرانے کی شہرتی لت میں مبتلا مذہبی و سماجی تنظیموں کی جانب س اخلاق کا اجرا، اسلحے کی کھلے عام نمائش اور موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی وغیرہ وغیرہ۔

اگر تو یہی اقدامات تیر بہدف ہیں تو آج تک ان سے کیا کیا سیرحاصل نتائج برآمد ہوئے اور اگر ان کی حیثیت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ ضابطۂ اخلاق پر عمل درآمد جیسی ہے تو انہیں ہر سال بطور رسم نافذ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

کیا آپ نے کتب خانوں سے زہریلا لٹریچر اٹھانے کا کام بھی شروع کردیا ہے؟ کیا آپ نے ان چھاپے خانوں اور ناشروں کے خلاف تادیبی کاروائی کا ڈول ڈال دیا ہے جو یہ زہر چھاپتے اور پھیلاتے ہیں؟

کیا آپ نے اسلام کے آفاقی پیغامِ امن کو پھیلانے والے لٹریچر کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی کوئی قدم اٹھایا؟ کیا آپ نے درسی کتابوں میں سے نفرت انگیز مواد کے اخراج کا کام بھی کسی فرد، کمیٹی یا ادارے کو سونپا؟

جس طرح آپ اسلحے کی تلاش کے لیے چھاپے مارتے پھر رہے ہیں کیا اسی طرح آپ اس اسلحے کی تلاش میں بھی سنجیدہ ہیں جس سے ذہنوں کو مسلح کیا جاتا ہے؟

کیا نیشنل ایکشن پلان بناتے وقت اس پر بھی کسی کی توجہ گئی کہ زہر بازو میں انجیکٹ کرنے سے تو صرف ایک موت ہوتی ہے مگر دماغ میں انجیکٹ کرنے سے ہزاروں اموات ہو سکتی ہیں کیونکہ جسم کے دیگر حصوں میں داخل ہونے والا زہر متعدی نہیں ہوتا مگر دماغ میں داخل کیا جانے والا زہر چھوت چھات کے وائرس جیسا ہو جاتا ہے۔

ایسی سامنے کی باتوں پر بھی اگر کسی لال بجھکڑ کا دھیان نہیں تو پھر سال کے چند نازک دنوں میں کیے جانے والے عارضی روایتی انتظامی اقدامات کے نتائج اس سے زیادہ کیا برآمد ہوں گے جیسے کسی کچرے کے ڈھیر کو ڈھانپ کر فرض کر لیا جائے کہ اب یہ کچرے کا ڈھیر نہیں رہا۔

اسی بارے میں