ایم این اے کے کیمپ آفس میں دھماکہ، آٹھ ہلاک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

صوبہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کے حکام کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے ممبر قومی اسمبلی سردار امجد فاروق کھوسہ کے دفتر میں ہونے والے دھماکے میں خودکش حملہ آور سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ڈی پی او ڈیرہ غازی خان مبشر میکن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکہ تونسہ شہر میں سردار امجد کھوسہ کے کیمپ آفس میں ہوا ہے۔

انھوں نے بتایا کے امجد فاروق کھوسہ کی رہائش تو ڈیرہ غازی خان شہر میں ہے اور یہ کیمپ آفس ان کے حلقے کے نسبتاً دور واقع ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بلدیاتی انتخابات کے باعث اس جگہ سیاسی کارکنوں کا رش رہتا تھا اور جس وقت دھماکہ ہوا خود سردار امجد فاروق وہاں موجود نہیں تھے۔ تاہم کیمپ آفس میں بعض سیاسی کارکن موجود تھے جب ایک شخص وہاں آیا اور دھماکہ ہو گیا۔

ڈی پی او مبشر میکن نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’خودکش حملہ آور کا سر اور ٹانگیں ملی ہیں۔ اس کی چھوٹی چھوٹی داڑھی ہے اور زیادہ لمبے بال نہیں ہیں۔ عمر کوئی بیس بائیس سال کے قریب ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ڈیرہ غازی خان ضلع میں شدت پسندی کا رجحان پرانا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دھماکہ تونسہ شہر میں سردار امجد کھوسہ کے کیمپ آفس میں ہوا

’تونسہ میں لوگ مذہبی طور پر بہت شدت پسند ہیں اور ساتھ ہی ڈی آئی خان کا بارڈر ہے۔ کوہ سلیمان بھی ساتھ لگتا ہے۔ جنوبی وزیرستان ایجنسی بھی یہاں سے قریب ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان میں اس سے پہلے بھی تین بڑے بم دھماکے ہوچکے ہیں جن میں اہل تشیع کی مجلس، دربار سخی سرور اور سردار ذوالفقار کھوسہ کے گھر کے سامنے ایف سی کی چوکی کو نشانہ بنایا گیا۔

ضلعی پولیس افسر نے بتایا کہ انسداد دہشتگردی کا محکمہ واقعے کی تفتیش کررہا ہے اور جائے واردات سے بال بیئرنگ، ایک دستی بم اور خودکش جیکٹ کے ٹکڑے ملے ہیں۔

تحریکِ طالبان جماعت الاحرار گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

بی بی سی کو ٹیلی فون کر کے جماعت کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بتایا کے یہ حملہ مسلم لیگ ن کے خلاف ان کی کارروائیوں کا حصہ ہے۔

اسی بارے میں