جیل میں جنسی زیادتی، قیدی اور نمبردار کے خلاف تفتیش

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پشاور سینٹرل جیل میں ایک بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی شکایت کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے ایک قیدی اور جیل کے ایک نمبردار سے تفتیش شروع کر دی ہے۔

دوسری جانب سیشن جج کے حکم پر جوڈیشل مجسٹریٹ اس واقعے کی انکوائری بھی کر رہے ہیں۔

حکام نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں: آڈیو انٹرویو

بچوں کو جیل میں رکھنے کے قواعد و ضوابط کیا؟

پولیس اہلکاروں کے مطابق قیدی نمبر 75 اور ایک نمبردار کو علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا جہاں ان سے تفتیش کے لیے انھیں ایک روز کے لیے تحویل میں لینے کی درخواست کی تھی۔ پولیس کے مطابق ان نامزد افراد کو آج بھی علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

سینٹرل جیل میں قید ایک 14 سے 15 سال کے بچے نے چند روز پہلے پشاور کے سیشن جج شاہد خان سے شکایت کی تھی کہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے اور اس میں جیل کے عملے کے کچھ اہلکار شامل ہیں۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ان عدالتوں کے پریزائیڈنگ افسر بھی ہوتے ہیں جہاں قیدی بچوں کو پیش کیا جاتا ہے۔

اس بچے کی شکایت کے مطابق جیل میں قید بچوں کو قیدیوں کو جنسی زیادتی کے لیے پیش کیا جاتا ہے اور اس کے بدلے میں اہلکار قیدیوں سے رقم وصول کرتے ہیں۔ بچے نے یہ شکایت بھی کی تھی کہ دیگر بچوں کے ساتھ بھی یہیں کچھ کیا جاتا ہے لیکن خوف کی وجہ سے کوئی آواز نھیں اٹھاتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پولیس نے بتایا کہ اس بچے نے شکایت میں کہا تھا کہ جیل کے عہدیدار اور نمبردار اسے زبردست ایک قیدی جسے قیدی نمبر 75 کہا جاتا ہے اس کے بیرک میں لے گئے جہاں اسے (بچے) زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

سیشن جج نے جوڈیشل مجسٹریٹ آصف جدون کی سربراہی میں انکوائری کا حکم دیا تھا۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے بیان ریکارڈ کرنے کے بعد سینٹرل جیل میں قیدی بچوں کا ریکارڈ اور تفصیلات حاصل کر لی ہیں۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ جیل کے جن اہلکاروں کو اس میں نامزد کیا گیا ہے وہ چکی کے انچارج ہیں یعنی یہ اہلکار جیل کے اس شعبے کی انچارج ہیں جہاں ان قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جنھیں سخت سزائیں سنائی گئی ہوتی ہیں۔

سینٹرل جیل میں بچوں کا قید خانہ علیحدہ ہے۔ اس وقت پشاور سینٹرل جیل میں بچوں کی بیرک میں کوئی ایک سو پانچ بچے قید ہیں جن کی عمریں اٹھارہ سال سےکم ہیں ان میں سے صرف دس ایسے بچے ہیں جن کا جرم ثابت ہے جبکہ باقی بچے حوالاتی ہیں۔

اسی بارے میں