کوئلے کی کانیں بند ہونے سے ہزاروں افراد بے روزگار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اورکزئی ایجنسی کے علاقوں اپر، لوئر اور سینٹرل اورکزئی کے مقامات پر تقربناً 200 کے قریب کوئلے کے کانیں موجود ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں امن بحال ہوئے تین سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ایجنسی میں واقع تقربناً 200 کے قریب کوئلے کی کانیں بدستور بند پڑی ہیں۔

کوئلے کی کانوں کی بندش کی وجہ سے تقربناً سات ہزار کے قریب کان کن اور دیگر مزدور بیروزگار ہو چکے ہیں۔

تین سب ڈویژنوں پر مشتمل اورکزئی ایجنسی قدرتی حسن اور معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے۔

اس ایجنسی میں سنہ 2002 اور 2003 میں کوئلے جیسے قیمتی ذخائر دریافت ہوئے تھے۔ ابتدا میں یہ کاروبار زیادہ منافع بخش نہیں تھا لیکن رفتہ رفتہ جب مختلف علاقوں میں کھدائی کی گئی تو اعلیٰ قسم کا کوئلہ دریافت ہوا۔

اورکزئی ایجنسی کے علاقوں اپر، لوئر اور سینٹرل اورکزئی کے مقامات پر تقربناً 200 کے قریب کوئلے کے کانیں موجود ہیں۔ تاہم اعلی قسم کا کوئلہ شیخان قبیلے کے علاقے میں پایا جاتا ہے جہاں تقربناً 100 سے زیادہ کانیں پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ خادی زئی، مشتی اور اہل تشیع کے علاقے کلایہ میں بھی درجنوں کانیں موجود ہیں۔

تاہم سنہ 2007 اور 2008 میں جب ایجنسی میں شدت پسندوں آئے تو علاقے میں رفتہ رفتہ امن عامہ کی صورت حال خراب ہوتی گئی اور اس طرح کوئلے کی کانوں میں بھی کام بند ہوگیا تھا۔

پاکستانی فوج کی جانب سے عسکری تنظیموں کے خلاف آپریشن کی وجہ سے علاقے کے تقربناً پانچ لاکھ افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے اور متاثرین آج بھی مختلف علاقوں میں پناہ گزین کیمپوں یا اپنے طورپر کرائے کے مکانات میں مقیم ہیں۔

فوجی آپریشن کے بعد ایجنسی کے تقربناً تمام علاقوں میں حکومتی عمل داری دوبارہ بحال کردی گئی اور نقل مکانی کرنے والے افراد کی واپسی کا سلسلہ بھی حال ہی میں شروع ہوا ہے لیکن کوئلے کی کانیں بدستور بند پڑی ہیں۔

اس وقت صرف اورکزئی ایجنسی کے ہیڈکوارٹر کلایہ کی حدود میں واقع کوئلے کانوں میں کام جاری ہے جبکہ دیگر تمام کان بند پڑی ہیں۔

کانوں کی بندش سے نہ صرف ہزاروں مزدور بے روزگار ہوچکے ہیں بلکہ کوئلہ مالکان کو بھی اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

اورکزئی ایجنسی کے علاقے شیخان میں کوئلے کی کانوں کے ایک مالک ملک عزت گل اورکزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ کوئلے کی کانوں میں گذشتہ چھ سال سے کوئی کام نہیں ہوا ہے جس سے مالکان اور مزدور دونوں کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ آپریشن سے پہلے جن کانوں میں کام جاری تھا ان میں بیشتر اب پانی سے بھر چکی ہیں یا وہ اندر سے گر چکی ہیں جس کی صفائی بھی اب مالکان کےلیے ایک بڑا مسلہ بنا ہوا ہے۔

ان کے مطابق کانوں کے بند ہوجانے سے تقربناً سات ہزار کے قریب کان کن، مزدور اور کوئلے کو گاڑیوں میں لے جانے والے ڈرائیور بے روزگاری کا شکار ہوگئے ہیں جن میں اکثریت غریب افراد کی ہے۔ کوئلے کا کاروبار کرنے والے ایک اور تاجر ملک فضل حکیم کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کانوں کی دوبارہ آبادکاری کی یقین دہانی کرائی گئی ہے لیکن اس کام میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے جس سے حکومت اور عوام دونوں کو فائدہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ چند دن پہلے اورکزئی ایجنسی کی کوئلے مالکان کی تنظیم کی طرف سے پشاورمیں گورنرخیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان سے ملاقات کی تھی جس میں گورنر نے کانوں کی آباد کاری اور دیگر مسائل کے حل کے وعدے کیے تھے۔

ملک فضل حکیم نے کہا کہ اورکزئی ایجنسی میں کوئلے کے علاوہ سنگ مرمر اور سیمنٹ میں استعمال ہونے والی قیمتی مٹی بھی وافر مقدار میں پائی جاتی ہے لیکن شدت پسندی کی وجہ سے اس ضمن میں کوئی کام نہیں ہوا ہے۔

اسی بارے میں