توانائی کا بحران، وزرا کے جھگڑوں کی نذر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے توانائی کے اہم منصوبوں میں تاخیر کی وجہ منصوبہ بندی کمیشن کو قرار دیا

پاکستان میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی وفاقی کابینہ کے وزرا کے درمیان ترقیاتی منصوبوں اور مختلف مسائل پر تنازعات اب اقتدار کے ایوانوں کی دیواروں سے باہر اخبارت کی زینت بھی بننے لگی ہیں۔

مسلم لیگ ن کی کابینہ میں شامل اہم وزارتوں کا قلم دان سنبھالنے والے وزرا کے مابین کشیدگی اب ڈھکی چھپی بات اس لیے بھی نہیں ہے کہ بعض وزرا نے کھلے عام ایک دوسرے پر تنقید کرنا شروع کر دی ہے۔

ملک سے لوڈ شیڈنگ کو چند ماہ میں ختم کر دینے اور ملک میں بلٹ ٹرین چلانے جیسے انتخابی نعروں اور وعدوں پر اقتدار میں آنے والی مسلم لیگ ن کے وزرا میں پائے جانے والے اختلافات کا اثر اب ترقیاتی منصوبوں پر بھی پڑنا شروع ہو گیا ہے۔

’جی ایچ کیو سے رابطے کے لیے کسی کی ضرورت نہیں‘

گذشتہ ہفتہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک سیمینار کے دوران وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے توانائی کے اہم منصوبوں میں تاخیر کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر اُس دور میں منصوبہ بندی کمیشن ہوتا تو شاہ جہاں بادشاہ کبھی بھی تاج محل تعمیر نہ کر پاتا۔‘

اس بیان کے دو دن بعد منصوبہ بندی کمیشن نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا کہ ’بعض وزارتیں ترقیاتی منصوبوں کی کڑی چھان بین سے پریشان ہیں لیکن اُن کی پریشانی سے پلاننگ کمیشن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ عوام کے پیسے کا تحفظ اور موثر استعمال ہماری ذمہ داری ہے۔‘

ایک ایسی جماعت جس کے قائد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے کئی اراکینِ اسمبلی کو وزیراعظم نواز شریف سے محض مصافحے کا موقع ہی ملا ہو، تو دوسری طرف وزیراعظم کے انتہائی قریب تصور کیے جانے والے بعض خاص افراد، جو کئی اہم وزارتیں سنبھالے بیٹھے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔

توانائی کے بحران کے حل کے لیے نندی پور پاور پلانٹ سے بجلی بننے کے ناکام تجربے نے یہ تو واضح کر دیا کہ پنجاب حکومت اور وفاقی وزارتِ پانی و بجلی دو الگ سمتوں میں کام کر رہی ہیں۔

اسی طرح توانائی کی قلت دور کرنے کے لیے مائع قدرتی گیس یا ایل این جی کی درآمد کے منصوبے پر وزیرِ توانائی شاہد خاقان عباسی اور وزیراعظم کے رشتے دار اہم وفاقی وزیر کے درمیان سرد مہری بھی زبان زد عام ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فوج اور جی ایچ کیو سے رابطہ کرنے کے لیے وزارتِ دفاع کی ضرورت نہیں ہے: چوہدری نثار

حال ہی میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے ٹیلی ویژن پر آ کر کہا کہ گذشتہ تین سے چار سال سے اُن کی وزیر داخلہ چوہدری نثار سے بات چیت نہیں ہے۔ جس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ نے کہا کہ انھیں فوج اور جی ایچ کیو سے رابطہ کرنے کے لیے وزارتِ دفاع کی ضرورت نہیں ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کی ’کچن کیبنٹ‘ کے وزیروں نے آپس کے تنازعات کو کھلے عام کیوں بیان کیا؟

سینئیر صحافی اور تجزیہ کار ضیاالدین کہتے ہیں کہ دنیا بھر کی جمہوریتوں میں کابینہ کے وزرا کے درمیان اختلافات معمول کی بات ہے۔

انھوں نے کہا کہ اپنے اپنے مفاد اور ذاتی اختلافات کی بنا پر کابینہ کے وزرا کے درمیان ناراضی عام بات ہے لیکن یہ ناراضی عموماً میڈیا سے چھپائی جاتی ہے اور عوامی مقامات پر اس کا برملا اظہار نہیں کیا جاتا۔

سنیئیر تجزیہ کار ضیا الدین کے مطابق ’ایسا لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن دانستہ طور پر اپنے اندرونی اختلافات کو میڈیا پر لانا چاہتی ہے تاکہ میڈیا میں چلنے والے خبروں کا رخ بجلی کے بحران یا دیگر مسائل سے ہٹا کر دوسری طرف کیا جائے۔‘

ملک میں جمہوری حکومت کے اقتدار کے باوجود فوج کے بڑھتے ہوئے عمل دخل کے باعث کہیں کوئی دوسری طاقت حکومت کے تشخص کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش تو نہیں کر رہی؟

اس بارے میں ضیا الدین کہتے ہیں کہ ’تیسری طاقت کا عنصر بھی ہو سکتا ہے لیکن جس انداز سے میڈیا پر آ کر وفاقی وزرا ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہے ہیں وہ کسی مربوط حکمت عملی کا نتیجہ لگتا ہے۔ اگر انھیں تیسری قوت کا خطرہ ہوتا تو میڈیا پر زیادہ اتحاد کا مظاہرے کرتے۔‘

سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں اختلاف کو عیاں کرنے کی وجوہات کچھ بھی ہوں لیکن ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں فوج دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب میں مصروف ہے اورآئی ایس پی آر ذرائع ابلاغ کے ذریعے فوج کی تشہیر پر کافی وسائل خرچ کر رہی ہے تو جمہوری حکومت کو بھی چاہیے کہ ہم آہنگی کا مظاہرہ کریں تاکہ ملکی مسائل کے حل میں عوام اپنے جمہوری قائدین کو اور اُن کی کوششوں کو سنحیدہ تصور کریں۔

اسی بارے میں