سمجھوتہ ایکسپریس کی سروس ایک ہفتے بعد بحال

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption واضح رہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس کا آغاز جولائی 1976 میں کیا گیا تھا اور یہ ٹرین لاہور اور دہلی کے درمیان ہفتے میں دو بار چلتی ہے

پاکستان اور بھارت کے درمیان چلائی جانے والی ریل گاڑی سمجھوتہ ایکسپریس کی سروس ایک ہفتے تک معطل رہنے کے بعد بحال کر دی گئی ہے۔

جمعرات کو یہ ٹرین لاہور ریلوے سٹیشن سے 192 مسافروں کو لے کر بھارت کے لیے روانہ ہوئی۔

سمجھوتہ ایکسپریس کی معطلی سے متاثر مسافر پاکستان روانہ

ان مسافروں میں 122 بھارتی شہری جبکہ 70 پاکستانی شہری شامل ہیں۔

پاکستان ریلوے اہلکاروں کے مطابق بھارت جانے والے مسافروں کو مکمل سیکیورٹی اور دیگر سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

بھارتی حکام نے سمجھوتہ ایکسپریس کی سروس گذشتہ ہفتے یہ کہتے ہوئے معطل کر دی تھی کہ بھارتی پنجاب میں کسانوں کے احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے اس ٹرین کے مسافروں کو تحفظ دینا ممکن نہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی اس واحد ریل گاڑی کے رک جانے کی وجہ سے بھارتی اور پاکستانی شہری سرحد کے دونوں جانب پھنس کر رہ گئے تھے اور اس پر احتجاج بھی ہوا تھا۔

سروس کے اچانک معطل ہونے کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی سفارت خانے کے قائم مقام ڈپٹی ہائی کمشنر رگھو رام کو طلب کر کے سمجھوتہ ایکسپریس کی پیشگی نوٹس کے بغیر منسوخی پر تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بدھ کو تصدیق کی تھی کہ سمجھوتہ ایکسپریس کی معطلی کے باعث بھارت میں دہلی کے ریلوے سٹیشن پر پھنسے ہوئے 33 پاکستانی مسافروں کو بس کے ذریعے پاکستان لایا گیا ہے۔

ٹرین سروس کی معطلی سے لاہور کے ریلوے سٹیشن پر بھی 40 مسافر پھنس گئے تھے جن میں سے 20 کا تعلق بھارت سے تھا اور وہ جمعرات کو واپس گئے ہیں۔

واضح رہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس کا آغاز جولائی 1976 میں کیا گیا تھا اور یہ ٹرین لاہور اور دہلی کے درمیان ہفتے میں دو بار چلتی ہے۔

اسی بارے میں