پاک روس معاشقہ!

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس منصوبے پر دو سے ڈھائی ارب ڈالر لاگت آئے گی

پاکستان اور روس نے دو روز قبل اسلام آباد میں ایک سمجھوتے پر دستخط کیے جس کے تحت روسی سرکاری کمپنی روسٹیک کراچی کے مائع گیس ٹرمینل سے لاہور تک 1100 کلو میٹر طویل پائپ لائن بچھائے گی۔

اس منصوبے پر دو سے ڈھائی ارب ڈالر لاگت آئے گی اور یہ سرمایہ بھی روس لگائے گا۔ اس پائپ لائن سے سالانہ ساڑھے بارہ ارب کیوبک فٹ مائع گیس کی ترسیل ہوگی اور یہ منصوبہ چار سے پانچ برس میں مکمل ہوگا۔

پاکستان کا روس کے ساتھ گیس پائپ لائن کی تعمیر کا معاہدہ

’دو سال میں ایران سے گیس کی فراہمی شروع ہو جائے گی‘

دو ماہ قبل اگست میں طے پایا کہ روس پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے چار جدید ترین ایم آئی 35 ہیلی کاپٹر فراہم کرے گاجبکہ مزید ہیلی کاپٹروں اور ایس یو 35 (سوخوئی) ساخت کے جنگی طیاروں کے حصول کی بات چیت بھی جاری ہے۔

جولائی میں وزیرِ اعظم نواز شریف کی روسی شہر اوفا میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں صدر پوتن سے ملاقات ہوئی اور ایس سی او کی باضابطہ رکنیت کے لیے روسی حمایت پر صدر پوتن کا ذاتی شکریہ ادا کیا۔

جون میں پاکستانی فوج کے سربراہ راحیل شریف نے روس کا تین روزہ دورہ کیا اور روسی عہدیداروں سے نہ صرف عسکری تعاون بڑھانے پر بات کی بلکہ نئے روسی اسلحے کی نمائش میں بھی گہری دلچسپی ظاہر کی۔

گذشتہ برس نومبر میں روس نے پاکستان پر سے اسلحہ کی فروخت کی پابندی اٹھا لی۔ روسی وزیرِ دفاع سرگئی شوئگو نے اسلام آباد کا دورہ کیا اور دو طرفہ دفاعی سمجھوتے پر دستخط کیے ۔

سنہ 2013 دو ہزار تیرہ میں دونوں ممالک کے مابین اسٹرٹیجک مذاکرات شروع ہوئے۔

اکتوبر سنہ 2012 میں صدر پوتن نے طے شدہ دورہِ پاکستان اچانک ملتوی کردیا جس کے بعد میڈیا میں چے مے گوئیاں شروع ہوگئیں۔

صدر پوتن نے دورے کے التوا کی وضاحت کے لیے وزیرِ خارجہ سرگئی لواروف کو پاکستان بھیجا۔ اس وقت کے پاکستانی سپاہ سالار جنرل اشفاق پرویز کیانی نے طے شدہ شیڈول کے مطابق ماسکو کا دورہ کیا اور اس سبب روسی وزیرِ دفاع اناطولی سرکوف نے اپنا دورۂ بھارت آگے بڑھا دیا۔

سنہ 2011 میں ولادی میر پوتن نے کراچی سٹیل ملز، گدو اور مظفر گڑھ کے بجلی گھروں کی پیداواری استعداد بڑھانے اور تھر کول پروجیکٹ میں مدد فراہم کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا اور مسلمان دنیا میں روس کا اہم ساتھی ہے۔

ستمبر سنہ 2011 میں سابق صدر آصف علی زرداری نے روس کا سرکاری دورہ کیا۔ سنہ 2007 میں روسی وزیرِ اعظم میخائیل فیدروکوف نے پاکستان کا دورہ کیا۔ 38 برس میں وہ پاکستان کا دورہ کرنے والے اعلیٰ ترین روسی عہدیدار تھے۔

سنہ 2003 دو ہزار تین میں سابق صدر پرویز مشرف نے روس کا سرکاری دورہ کیا۔ ڈھائی عشروں میں روس جانے والے وہ پہلے پاکستانی صدر تھے۔

پچھلے 12 برس کے دوران روس اور پاکستان کے مابین جتنے اہم سمجھوتے ہوئے اور جس سطح کی دو طرفہ آمد و رفت بڑھی ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

تو ان 12 برس میں ایسا کیا ہوگیا کہ دونوں ممالک کی 56 سالہ سرد مہری گرم جوشی میں بدلنا شروع ہوگئی اور آج یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ یہ وہی پاکستان ہے جس کے پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد سوویت قیادت کی جانب سے دورہِ ماسکو کا دعوت نامہ جھٹک دیا۔

پاکستان سوویت یونین کا گھیراؤ کرنے والے امریکی اتحاد سیٹو اور سینٹو کا حصہ بنا۔ سرد جنگ کے عروج میں امریکہ کو روسی جاسوسی کے لیے فضائی سہولتیں فراہم کیں اور افغانستان میں روسی فوجی موجودگی کے خلاف دس برس تک ہراول کردار نبھایا۔

اور کیا یہ وہی ماسکو ہے جس کی سابق کیمونسٹ قیادت نے سن 50 کے عشرے میں مسئلہ کشمیر پر بھارت کی کھل کر حمایت کی۔

بڈبیر کے فضائی اڈے سے امریکی جاسوس طیاروں کی پروازوں کے بعد پاکستان کے گرد سرخ دائرہ کھینچ دیا۔

سنہ 1971 میں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنوانے میں بھارت کا کھل کر فوجی و سیاسی ساتھ دیا۔

افغان خانہ جنگی کے دوران پاکستان کو ایک کلیدی علاقائی دشمن کے طور پر دیکھا اور اب یہ ہے کہ دونوں ممالک ماضی کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے تعلقات کو مستحکم اور مفید بنانے کے لیے بظاہر سنجیدگی سے کوشاں ہیں۔

معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی ہیں نہ دوستیاں۔ دوام صرف ضرورت اور مفاد کو ہے۔ بھارت امریکہ کی جانب کھچے گا تو پاکستان، چین اور روس میں قربت بڑھے گی۔

حالات کے جبر نے پاکستان کے خلیجی ممالک سے تعلقات میں گرمجوشی کا عنصر گھٹا دیا ہے۔

دہشت گردی کا دوطرفہ ڈسا پاکستان مشرقِ وسطی میں نئے شعیہ سنی مناقشے کا حصہ بھی نہیں بننا چاہتا۔ پاکستان ترقی بھی چاہتا ہے مگر مغربی امداد کی کڑی شرائط بھی گوارا نہیں۔

امریکہ سے دوطرفہ تعلقات کی پائیداری پر نہ پاکستان کو بھروسہ ہے نہ امریکہ کو مگر افغانستان میں قیام ِ امن کے لیے پاکستان کی اہمیت کو نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔

چین اور روس بدلے ہوئے عالمی توازنِ طاقت میں ایک دوسرے کی معاشی و عسکری ضرورت ہیں۔ گذشتہ برس دونوں طاقتوں نے گیس کی تجارت کے 400 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے۔

یوکرین کے معاملے پر مغرب جس طرح روس کو تنہا کرنے کے لیے کوشاں ہے اور شام کے مسئلے پر روس اور پاکستان کے معتمد دوست چین کے مابین جو غیر اعلانیہ ہم آہنگی ہے وہ بھی پاکستان کی روایتی پالیسی پر اثرانداز ہو رہی ہے۔

چین کو مشرقِ وسطیٰ کے تیل اور اپنی اشیا کی ترسیل کے لیے جو مختصر زمینی راستہ درکار ہے، روسی کمپنیوں کو سابق وسطی ایشیائی ریاستوں کے معدنی ذخائر کی برآمدگی اور تیل و گیس کی نئی پائپ لائنوں میں سرمایہ کاری کے لیے جن تازہ منڈیوں اور مواقع کی تلاش ہے، بحیرہ جنوبی چین میں جس طرح جاپان اور امریکہ کے ساتھ چینی زور آزمائی کا امکان بڑھ رہا ہے۔ اس عرصے میں بھارت کی چین سے مقابلے کی خاطر مغربی ٹیکنا لوجی، سرمایہ کاری اور اسٹریٹیجک و جوہری تعاون کی ضروریات میں جس طرح اضافہ ہو رہا ہے ان کے ہوتے بھارت کا محض روس پر روایتی دفاعی و اسٹرٹیجک تکیہ ناکافی ہے۔

حالات، ستاروں اور مفادات کو نئے مداروں کی تلاش ہےگویا

اپنے اپنے بے وفاؤں نے ہمیں یکجا کیا

ورنہ میں تیرا نہیں تھا اور تو میرا نہ تھا۔( فراز )

اسی بارے میں