پولیس افسران کے قتل میں ملوث دو ملزمان پر فرد جرم عائد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رواں سال رینجرز نے ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر اور سیکریٹریٹ پر چھاپہ مارا تھا اور وہاں سے سزا یافتہ ٹارگٹ کلرز کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تھا

پاکستان کے شہر کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دو پولیس افسران کے قتل میں ملوث ملزمان عبید کے ٹو اور نادر شاہ پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔

سنیچر کو کیس کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے سنہ 2000 میں ریحان اور نثار نامی دو پولیس افسران کو سولجر بازار میں قتل کیا تھا۔

’کراچی سے دو تخریب کار گرفتار، دو فرار‘

کراچی سے حزب التحریر اور القائدہ کا رکن گرفتار

واضح رہے کہ رواں سال 11 مارچ کو رینجرز نے ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر اور سیکریٹریٹ پر چھاپہ مارا تھا اور وہاں سے سزا یافتہ ٹارگٹ کلرز کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تھا۔

اس چھاپے کے دوران مبینہ طور پر پولیس افسران کے قتل میں ملوث یہ دونوں ملزمان بھی گرفتار ہوئے تھے۔

اِن دونوں ملزمان کے خلاف تھانہ سولجر بازار میں مقدمہ درج ہے۔

آج انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کئے جانے کے بعد ملزم عبید کے ٹواور نادر شاہ نے پولیس افسران کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام سے انکار کیا۔

اس مقدمے کی آئندہ سماعت سات نومبر کو ہوگی۔

ادھر پولیس نے تین ایسے ملزمان کے خلاف چارج شیٹ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کی ہے جنھیں استغاثہ نے بھارتی خفیہ ادارے کا ایجنٹ قرار دیا ہے۔

سنیچر کو ہی ان تینوں ملزمان طاہر عرف لمبا، امتیاز عرف گڈو اور جنید کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت میں پیش کیے گئے چالان کے مطابق ان تینوں افراد کو 29 اپریل کو سپر ہائی وے سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے قبضے سے غیر قانونی ہتھیار، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا تھا۔

سماعت کے موقع پر وکیلِ استغاثہ نے کہا کہ سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے یہ دہشت گرد بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ کے ایجنٹ ہیں اور انھوں نے بھارت میں تربیت حاصل کی ہے۔

امکان ہے کہ ان مبینہ ملزمان پر آئندہ سماعت کے دوران فرد جرم عائد کر دی جائے گی۔

اسی بارے میں