بلوچستان: پرتشدد واقعات اور ایف سی کی کارروائی میں سات ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بارودی سرنگ پھٹنے سے ایف سی کا ایک اہلکار ہلاک ہوا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تشدد کے مختلف واقعات اور سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک سیکورٹی اہلکار اور تین عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔ سیکورٹی اہلکار کی ہلاکت کا واقعہ ضلع ہرنائی میں پیش آیا۔

کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے ترجمان کے مطابق ہرنائی کے علاقے خوست میں نامعلوم افراد نے سرنگیں بچھائی تھیں۔ ایف سی کے اہلکار ان کو صاف کرنے میں مصروف تھے کہ اس دوران ایک بارودی سرنگ پھٹ گئی۔

بارودی سرنگ پھٹنے سے ایف سی کا ایک اہلکار ہلاک ہوا۔

اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

ادھر ایران سے متصل ضلع پنجگور میں فرنٹیئر کور نے ایک کارروائی کی ہے۔

ایف سی کے ترجمان کے مطابق یہ کاروائی پنجگور کے علاقے تسپ کے پہاڑی علاقے میں ایک کالعدم تنظیم کے ٹھکانوں کے خلاف کی گئی۔

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اس کاروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے تین افراد ہلاک ہوگئے۔ ترجمان کے مطابق عسکریت پسندوں کے ٹھکانے سے اسلحہ و گولہ بارود بھی بر آمد کیا گیا۔

ایف سی کے ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق ایک عسکریت پسند تنظیم سے تھا۔

اس واقعہ کے حوالے سے کالعدم بلوچ ریپبلکن آرمی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے تسپ میں عام شہریوں نشانہ بنایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بلوچستان کے دو علاقوں سے تین افراد کی لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ دو افراد کی لاشیں ضلع بارکھان کے علاقے دامان سے برآمد کی گئیں۔

ضلعی انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا کہ دونوں افراد کو گولیاں مارکر ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشیں اس علاقے میں پھینک دی گئی تھیں۔ جبکہ تیسری لاش کوئٹہ کے قریب مستونگ کے علاقے دشت سے برآمد کی گئی۔

تینوں لاشوں کی شناخت تاحال نہیں ہوئی۔

بجلی کی ٹاوروں کو اڑانے کا واقعہ ضلع کچھی کے علاقے بولان میں پیش آیا۔

کچھی میں انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد نے بولان میں آب گم کے علاقے میں بجلی کی ٹاوروں کے ساتھ دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔

دھماکہ خیزمواد پھٹنے سے چار ٹاوروں کو نقصان پہنچا جس کے باعث بلوچستان کے کوئٹہ سمیت سات اضلاع کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔

اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم یونائیٹڈ بلوچ آرمی نے قبول کی ہے۔

اسی بارے میں