آئین شکنی کے مقدمہ میں شریک ملزمان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption درخواست گزار کا موقف تھا کہ ہائی کورٹ نے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے 21 نومبر سنہ 2014 کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا

پاکستان میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے میں خصوصی عدالت کے حکم پر شریک ملزمان کو شامل تفتیش کرنے کے خلاف دائر کی گئی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

یہ درخواستیں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، پاکستان کے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور سابق وزیر قانون زاہد حامد نے دائر کی تھیں۔

سابق وزیرِ اعظم، چیف جسٹس غداری کے مقدمے میں شریکِ جرم

ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والے عدالت نے 21 نومبر سنہ 2014 کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔ جس میں اُنھوں نے اس مقدمے کے مرکزی ملزم پرویز مشرف کی درخواست پر وفاقی حکومت کو مذکورہ تینوں افراد کو شامل تفتیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

سابق فوجی صدر نے آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں مطالبہ کیا تھا کہ تین نومبر سنہ 2007 میں ملک میں ایمرجنسی لگانے کے لیے کورکمانڈروں، وزیر اعظم اور کابینہ کے ارکان کے ساتھ مشاورت کی تھی۔ لہٰذا اُنھیں بھی اس مقدمے میں شریک جرم بنایا جائے۔

جسٹس نورالحق قریشی کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پیر کے روز ان درخواستوں کی سماعت کی۔

شوکت عزیز کی کابینہ میں سابق وزیر قانون زاہد حامد، جو اس وقت موجودہ حکمراں جماعت سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی ہیں، کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کسی دستاویز کی بنیاد پر ہی اُن کے موکل اور دیگر افراد سے تفتیش کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption درخواستیں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، پاکستان کے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور سابق وزیر قانون زاہد حامد نے دائر کی تھیں

اُنھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں منصفانہ تفتیش اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دیا جاتا۔

اُنھوں نے کہا کہ ایسا نہ کرنے سے آئین کے آرٹیکل 10اے کی بھی خلاف ورزی ہوگی جو فیئر ٹرائل کے زمرے میں آتا ہے۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ آئین شکنی کے مقدمے میں خصوصی عدالت نے اُن کے موکل اور دیگر افراد کے خلاف ریمارکس دیے ہیں ان کو بھی عدالتی کارروائی سے حذف کروایا جائے۔

پرویز مشرف کے وکیل فروغ نسیم نے عدالت سے استدعا کی کہ اُن کے موکل کا بیان بھی دوبارہ ریکارڈ کیا جائے اور اس کے علاوہ تفتیشی افسر کو بھی ہدایت کی جائے کہ وہ تفتیش کے دوران سابق فوجی صدر کے خلاف ٹرائل کورٹ کی طرف سے دیے جانے والے ریمارکس سے مثاثر نہ ہو۔

گذشتہ سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے عدالت عالیہ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ سابق وزیر اعظم، سابق چیف جسٹس اور سابق وزیر قانون کو سنگین غداری کے مقدمے میں شامل تفتیش کرنے کو تیار ہے۔

اسی بارے میں