بنوں میں سرکاری سکول کے قریب دھماکہ

Image caption پاکستان میں اب تک 800 سے زائد سکولوں کو دہشت گرد کارروائیوں میں نشانہ بنایا جا چکا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں لڑکیوں کے ایک سرکاری سکول کے قریب دھماکے سے عمارت کو جزوی نقصان پہنچا ہے لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ دھماکے کا نشانہ بننے والا گورنمنٹ گرلز ہائی سکول مندوزئی بنوں شہر سے کوئی چار کلومیٹر دور پشاور روڈ پر واقع ہے ۔

طالب علم سکول میں بم لے آیا

پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سکول کے گیٹ کے قریب رکھا تھا جس کے پھٹنے سے سکول کی چار دیواری اور گیٹ کو نقصان پہنچا۔

یہ دھماکہ نیم شب کے وقت ہوا اس وجہ سے پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

بنوں حملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سکیورٹی بڑھا دی ہے۔

محرم کے حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ حساس علاقوں میں بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ پشاور میں نویں اور دسویں محرم کو جلوسوں کے راستوں پر فوج تعینات کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جبکہ اندرون پشاور شہر کو مکمل سیل کر دیا جائے گا۔

پشاور شہر میں افغانیوں اور قبائلی علاقوں کے متاثرین کے داخلے پر پابندی لگائی گئی ہے جس پر ان قبائلی علاقوں کے افراد نے سخت احتجاج کیا تھا۔

بنوں میں سکولوں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں لیکن یہ دھماکہ ایک بڑے وقفے کے بعد ہوا ہے ۔

خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران 800 سے زیادہ سکولوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

گذشتہ سال دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملہ سب سے بڑا حملہ تھا جس میں 140 سے زیادہ بچے اور عملے کے افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

آرمی پبلک سکول پر حملے سے پہلے اکتوبر کے مہینے میں مہمند ایجنسی اور اس سے پہلے خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ میں سکولوں پر حملے کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں