’ بھارت نے خطے میں قیامِ امن کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کی‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے وزیراعظم محمد نوازشریف امریکہ کے چار روزہ دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے ہیں۔

منگل کو واشنگٹن پہنچنے پر وزیراعظم نواز شریف نے پاکستانی امریکن کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پاکستان کی جانب سے خطے میں قیام امن کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کی ہے۔

’جوہری اثاثوں کی سکیورٹی فول پروف ہے‘

’کولڈ سٹارٹ کا جواب چھوٹے مگر موثر جوہری ہتھیار‘

’اس رشتے میں کیا رہ گیا ہے؟‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی جڑ مسئلہ کشمیر ہے اور سنجیدگی سے تعلقات میں بہتری لانے کے لیے کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں بھی امن کا خواہشمند ہے کیونکہ خطے میں امن سے ملک اور خطے میں خوشحالی آئے گی۔

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2013 کے انتخابات کے بعد ایک سیاسی جماعت نے ملک میں سیاسی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی اور اب ضمنی انتخابات کے بعد بھی کہا جا رہا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’اب سڑکوں اور چوراہوں پر مہذب احتجاج کو مار دھاڑ تک لے جانا مناسب نہیں ہے۔‘

’جب پارلیمان کام کر رہی ہو، عدالتیں بحال ہوں، میڈیا آزاد ہو اور ادارے اپنا کام کر رہے ہوں تو سڑکوں پر تشدد کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘

خیال رہے کہ نواز شریف دورۂ امریکہ کے دوران صدر باراک اوباما سمیت امریکی امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین اور سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے ارکان سے بھی ملاقات کریں گے۔

چار روزہ سرکاری دورے پر امریکہ روانہ ہونے سے قبل نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جوہری حیثیت بیرونی جارحیت کے خلاف ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کے دورہ امریکہ میں جوہری ہتھیاروں کی سکیورٹی کی بات تو ہوگی لیکن جوہری معاہدے کے امکانات نہیں ہیں۔

اسی بارے میں