’کولڈ سٹارٹ کا جواب چھوٹے مگر موثر جوہری ہتھیار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے

پاکستان نے امریکہ کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام پر کسی معاہدے کے امکان کو رد کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہے۔

یہ باتیں پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے پیر کو واشنگٹن میں وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ امریکہ کے ایجنڈے کے حوالے سے دی جانے والی بریفنگ کے دوران کہیں۔

جوہری ہتھیار بنانے کا عمل جاری رکھنے کا عزم

پاکستانی میزائل بھارت کے لیے ’مخصوص‘

واشنگٹن میں پاکستانی سفیر جلیل عباس کے ساتھ پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ’میں ایک بات واضح کر دوں کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کا ایک ہی مقصد تھا اور اب بھی ہے کہ ہمارا جوہری پروگرام بھارت کے جانب سےلاحق خطرات اور بھارتی جارحیت کو روکنے کے لیے ہے۔‘

جوہری ہتھیاروں کی تحفظ کے حوالے غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے بارے میں سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان کی جوہری صلاحیت پر کوئی ڈیل یا سمجھوتہ نہیں ہو گا۔پاکستان کی جوہری سکیورٹی اور ایکسپورٹ کنٹرول کے حوالے سے ہم نے جو کام کیا ہے امریکہ سمیت ساری دنیا اُس کی متعرف ہے۔‘

پاکستان کے انگریزی اخبار ڈان کے مطابق اعزاز چوہدری نے بریفنگ میں یہ بھی بتایا کہ بھارت کی ’کولڈ سٹارٹ‘ نامی حکمت عملی کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان نے چھوٹے ایٹمی ہتھیار تیار کیے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کی نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی نے رواں برس ستمبر میں پہلی بار یہ کہا تھا کہ پاکستان خطے میں روایتی ہتھیاروں کے عدم توازن کے باعث زیادہ موثر چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

پاکستان کی اس نئی پالیسی کو ’فل سپیکٹرم ڈیٹرنس کیپیبلیٹی‘ کا نام دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت کی ’کولڈ سٹارٹ‘ نامی حکمت عملی کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان نے چھوٹے ایٹمی ہتھیار تیار کیے ہیں

یاد رہے کہ حال ہی میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی ایک خبر میں کہا تھا کہ پاکستان عنقریب چھوٹے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار نصب کرنے والا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو پریشانی ہے کہ ان جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کرنا زیادہ مشکل ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل امریکہ نے کہا تھا کہ نواز شریف کے دورہ امریکہ میں جوہری ہتھیاروں کی سکیورٹی پر بات ہوگی معاہدے پر نہیں جبکہ پاکستان کے وزیراعظم نے کہا تھا کہ پاکستان کے جوہری اثاثوں کی سکیورٹی فول پروف ہے۔

اعزاز چوہدری نے کہا کہ اپنے دورہ امریکہ میں وزیراعظم نواز شریف امریکی حکام سے لائن آف کنٹرول کی صورتحال پر بھی بات کریں گے اور ان پر زور دیں گے کہ وہ جنوبی ایشیا میں استحکام کے لیے کشمیر کے مسئلے کو حل کریں۔

تاہم انھوں نے کہا کہ پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔

سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے اس امکان کو واضح طور پر رد کیا کہ وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے دوران پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی بھی ’ڈیل‘ ہو سکتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اپنے چار ر وزہ سرکاری دورے کے دوران وزیراعظم نواز شریف صدر اوباما سمیت اہم امریکی حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔

اسی بارے میں