شیرپاؤ کی جماعت دوبارہ صوبائی حکومت میں شامل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شیر پاؤ نے پیپلز پارٹی سے اختلافات کے بعد قومی وطن پارٹی بنائی تھی

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں کرپشن اور بدعنوانیوں کے الزامات کے تحت تقریباً دو سال قبل مخلوط حکومت سے نکالی جانے والی سیاسی جماعت قومی وطن پارٹی دوبارہ تحریک انصاف کی حکومت میں شامل ہوگئی ہے۔

منگل کو گورنر ہاؤس پشاور میں حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی جس میں قومی وطن پارٹی کے دو صوبائی وزراء سکندر حیات خان شیرپاؤ اور خاتون رکن انیسہ زیب طاہر خیلی نے اپنے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا ۔

گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان نے صوبائی کابینہ میں شامل ہونے والے نئے وزراء سے ان کے عہدوں کا حلف لیا۔

سینیئر سیاستدان آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی قومی وطن پارٹی دوسری مرتبہ صوبائی حکومت میں شامل ہوئی ہے۔ اس سے پہلے مئی 2013 میں جب ملک میں عام انتخابات کا انعقاد کیا گیا تو خیبر پختونخوا میں ’تبدیلی کے ایجنڈے’ کے تحت تحریک انصاف اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی۔ بعد میں تحریک انصاف نے جماعت اسلامی، عوامی جمہوری اتحاد اور قومی وطن پارٹی سے مل کر صوبے میں مخلوط حکومت بنائی۔

تاہم یہ اتحاد چند ماہ سے زیادہ عرصہ نہیں چل سکا اور پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور صوبائی وزیر اعلٰی پرویز خٹک نے قومی وطن پارٹی کے وزراء پر کرپشن اور بدعنوانیوں کے سنگین نوعیت کے الزامات لگائے اور اس جماعت کو مخلوط حکومت سے نکال دیا۔

عمران خان دھرنے کے دوران کنٹینر پر بار بار قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور ان کے وزراء پر الزامات لگاتے رہے ہیں۔

قومی وطن پارٹی کے رہنماؤں نے پی ٹی آئی کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عمران خان پر جوابی حملے بھی کئے اور ذرائع ابلاغ کو ایک لیٹر جاری کیا جس میں پی ٹی آئی کے سربراہ کی طرف سے ایک افسر کو میرٹ کے برعکس اعلی عہدے پر فائز کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ تاہم پی ٹی آئی نے ایسے کسی خط کے جاری ہونے کی تردید کی تھی۔

لیکن اس مرتبہ تحریک انصاف اور قومی وطن پارٹی کے درمیان اقتدار کی شراکت کا باقاعدہ تحریری معاہدہ طے پایا ہے جس پر اطلاعات کے مطابق آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین کی طرف سے دستخط کئے گئے ہیں۔

تاہم اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر قومی وطن پارٹی کے وزراء بدعنوان تھے تو ان کے خلاف صوبائی حکومت کی جانب سے کارروائی کیوں نہیں کی گئی اور اب دوبارہ اسی سیاسی جماعت کو حکومت میں کیوں شامل کیا گیا جس کو کرپشن کے الزامات کے تحت ہی حکومت سے بے دخل کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں