پاکستان جوہری پروگرام کے راز کیوں کھول رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان نے جوہری صلاحیت رکھنے والی میزائلز کا تجربہ کیا ہے لیکن جوہری ہتھیار بنانے پر تسلیم نہیں کیا ہے

پاکستان نے پہلی بار انکشاف کیا ہے کہ اس نے بھارت کی جانب سے اچانک حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے محدود پیمانے پر کارروائی کرنے والے جوہری ہتھیار تیار کیے ہیں۔

پاکستان کے پاس کئی برسوں سے جوہری ہتھیار موجود ہیں لیکن کہا جا رہا ہے کہ پہلی بار حکومت نے کھلے عام اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کا تذکرہ کیا ہے۔

’جوہری ہتھیاروں کی سکیورٹی پر بات ہو گی معاہدے پر نہیں‘

’کولڈ سٹارٹ کا جواب چھوٹے مگر موثر جوہری ہتھیار‘

یہ انکشاف پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران ایسے وقت کیا جب پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف امریکی صدر براک اوباما سے جمعرات کو ملاقات کرنے والے ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں رہنما کئی معاملات پر بات چیت کریں گے جن میں پاکستان کا جوہری پروگرام، افغانستان اور حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ جیسے عسکریت پسند گروہ بھی شامل ہیں۔

اعزاز چوہدری کے انکشاف کو کئی لوگ کسی پاکستانی اہلکار کی جانب بھارت کی طرف سے ممکنہ جارحیت سے نمٹنے کے حوالے سے پہلا واضح بیان کہہ رہے ہیں۔

کیا یہ حیران کن بات ہے؟

جوہری طبیعیات کے ماہر اور غیرجانبدار سکیورٹی تجزیہ کار پرویز ہود بھائی کا کہنا ہے ’پاکستان کے ایسے جوہری ہتھیار بنانے والی بات اس دن پوری دنیا پر واضح ہوگئی تھی جب ملک نے اپنا میزائل پروگرام شروع کیا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا ’اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان نے مختصر فاصلے پر مار کرنے والے میزائلوں سے بھیجنے کے لیے یہ چھوٹے جوہری ہتھیار بنائے تھے تاکہ یہ شہروں کو تباہ کرنے والے بڑے بموں کے برعکس ہدف بنائے گئے مقام پر ہی اثر انداز ہوں۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ سنہ 2011 میں 600 کلومیٹر کی رینج والے ’نصر‘ میزائل کا جو تجربہ کیا گیا تھا وہ اس بات کا اشارہ تھا کہ جنگ کی صورت میں مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان جوہری ہتھیار بنا رہا تھا۔

دفاع اور سلامتی کے معاملات کے ماہر حسن عسکری رضوی کو شبہ ہے کہ پاکستان نے مزید چھوٹے ہتھیار بنائے ہیں جو ایک خاص ڈیزائن سے بنی بندوق سے بھی فائر کیے جا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا ’امریکیوں کو بظاہر ان ہتھیاروں کی معلومات حاصل ہیں۔ امریکہ میں ہونے والی ایک حالیہ بحث میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ پاکستان کے پاس بھارت سے کہیں زیادہ تعداد میں اور ہدف پر صحیح نشانہ لگانے والے جوہری ہتھیار ہیں۔‘

پرویز ہود بھائی کہتے ہیں کہ یہ ہتھیار بڑے جوہری ہتھیاروں سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں کیونکہ کسی تنازع کی صورت میں انھیں کم وقت میں چلایا جا سکتا ہے۔

مغربی طاقتوں کے لیے یہ بات بھی تشویش ناک ہے کہ پاکستان نے یہ ہتھیار سنہ 1998 میں عائد کی گئیں بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود بنائے تھے۔ سنہ 1998 میں ہی پاکستان نے اپنا پہلا جوہری تجربہ کیا تھا۔

کئی لوگوں کو یقین ہے کہ پاکستان کو جوہری ہتھیار بنانے والی ٹیکنالوجی چین نے فراہم کی ہے۔

امریکہ کیا کر رہا ہے؟

یہ تجویز سامنے آئی ہیں کہ امریکہ پاکستان کو نیوکلیئر سپلائر گروپ کی رکنیت کی پیشکش کر سکتا ہے جس کے بعد پاکستان کو دستیاب تحقیق اور ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی لیکن اس کے بدلے میں اسے اپنے جوہری اور میزائل پروگرام پر کچھ پابندیاں برداشت کرنی ہوں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ ماہ پاکستان نے ’فانٹم‘ نامی فلم کی ریلیس پر پابندی عائد کی تھی

دفاع اور خارجہ امور کے معاملات پر پاکستان کی جمہوری قیادت پر فوج کی جانب سے دباؤ ہے۔ کچھ لوگ ان تجاویز کو ایک تنبیہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ نواز شریف کو جوہری پابندیاں عائد کرنے پر مجبور کرے گا۔

اس پس منظر میں اعزاز چوہدری کے بیان کے بعد انھوں نے مزید کوئی اہم انکشاف نہیں کیا ہے لیکن پروفیسر عسکری کہتے ہیں کہ ان کی بیان کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔

انھوں نے کہا ’ایک یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ وہ بظاہر پاکستانی عوام کو یقین دہانی کروانا چاہتے ہیں کہ وہ جوہری مسئلے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور دوسری یہ کہ وہ بھارت کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان پر حملہ کرنے کی صورت میں اسے کیا جواب مل سکتا ہے۔‘

گذشتہ ماہ پاکستان نے ’فینٹم‘ نامی فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی تھی جو کہ ایک بھارتی جاسوس کی جانب سے سنہ 2008 میں ہونے والے ممبئی حملے کے ذمہ داران کو قتل کرنے پر مبنی تھی۔

اس فلم میں ہیرو کہتا ہے کہ ’امریکہ نے اسامہ کو پاکستان میں گھس کر مارا تھا۔ ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟‘

بھارت کہتا رہا ہے کہ اس کی فوج پر کسی قسم کا جوہری حملہ پورے ملک پر جوہری حملے کے برابر سمجھا جائے گا اور وہ اس کا جواب برابری سے دے گا اس لیے مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ کی صورت میں یہ لڑائی جلد ہی روایتی سے جوہری جنگ بن سکتی ہے۔

اسی بارے میں