’امریکہ سے تعلقات صرف فوجی نوعیت کے نہیں رہے‘

Image caption انھوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ پاکستان کی جانب سے اس وقت ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے بنانے کی تصدیق کا مقصد امریکہ کو ڈرانا ہے

پاکستان کے وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بتدریج وسعت آ رہی ہے اور اب یہ صرف فوجی تعلقات تک محدود نہیں ہیں۔

بی بی سی اردو کے ساتھ وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ امریکہ سے متعلق ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے صرف فوجی نوعیت کے تعلقات ہوتے تھے جو اچھے رہے اور جن سے پاکستان کو بہت فائدہ بھی ہوا لیکن اب تعلقات وسیع ہو رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’فوجی تعلقات کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کے تعلقات جیسے کہ تعلیم، صحت، توانائی کے مسائل وغیرہ میں بھی انھوں نے دلچسپی کا اظہار کرنا شروع کیا ہے۔ بہت سے سماجی شعبوں میں وہ پہلے سے موجود بھی ہیں تو ان موضوعات پر بات کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ وزیر اعظم ان تمام موضوعات پر اپنا موقف پیش کریں گے۔‘

پرویز رشید نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ چیزوں کا تبادلہ بھی کرتے ہیں اور دونوں کے اپنے اپنے مفادات بھی ہیں۔’امریکہ اس خطے میں 25 سال سے موجود بھی ہے اگرچہ محدود واپسی شروع بھی ہوئی ہے لیکن اس کے مستقل مفادات بھی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان اور امریکہ کے بھی تعلقات موجود ہیں۔ ’یقیناً جب ملاقات ہو گی تو ان تعلقات پر بھی بات ہو گی۔ ایک دوسرے کو اپنے خیالات کے مطابق دلیل دینے کا موقع ملتا ہے۔ اور ہماری کوشش ہوگی کہ انھیں ہم اپنا موقف سمجھا بھی سکیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں کہ وائٹ ہاؤس کے اس بیان پر کہ امریکہ خطے کی صورت حال پر بات کرنا چاہے گا لیکن پاکستان کون سا ایجنڈا لے کر گیا ہے، پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ایجنڈا بھی علاقے کا امن ہے جس سے ہم اپنے مسائل پر قابو پا سکیں گے لیکن یہ امریکہ کا نقطۂ نظر ہو گا، اس میں ہمارا بھی موقف ہے اور وزیر اعظم وہ موقف پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں پاکستان امریکہ کو کوئی یقین دہانی کروا سکتا ہے؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بات چیت کا عمل تو شروع کر دیا تھا اور وہ پاکستان کی سرزمین پر ہوئی اور اسے خوش آئند بھی سمجھا گیا لیکن پھر کسی نے اسے سبوتاژ بھی کر دیا۔

’اگر یہ سبوتاژ نہ ہوتا تو شاید کافی آگے بڑھتا۔ پاکستان تو چاہے گا کہ بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کو حل کروایا جائے۔ اگر تمام فریق امن پر تیار ہو جاتے ہیں تو ایک مستحکم افغانستان سے پاکستان میں بھی بہتری آئے گی۔ لہٰذا یقیناً ہم اس کی کوشش کریں گے۔”

انھوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ پاکستان کی جانب سے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے بنانے کی تصدیق کا اس وقت مقصد امریکہ کو ڈرانا ہے۔ ’ہم اپنی آزادی اور خودمختاری کے دفاع کی ہر وقت تیاری کرتے رہتے ہیں کیونکہ ہماری آزادی کو کہیں نہ کہیں سے خطرے محسوس ہوتے رہتے ہیں۔‘

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ’ہم سے ایک پانچ گنا بڑا ملک ہے جس کے پانچ گنا بڑے ذرائع ہیں۔ ان کے اور امریکیوں کے فوجی تعلقات میں اب بہت وسعت آنا شروع ہو چکی ہے۔ امریکہ کو اس بات کا احساس دلانا ہے کہ ان بڑھتے تعلقات کا پاکستان کو کبھی نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ ہم نے دفاع کے لیے یہ تدابیر کی ہیں۔ یہ احتیاطی تدابیر ہیں اور صرف اور صرف پاکستان کے دفاع کے لیے ہیں۔‘

کیا وزیر اعظم نواز شریف امریکہ سے بھارت پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی بات بھی واشنگٹن میں کریں گے؟

اس سوال پر حکومت کے مرکزی ترجمان کا کہنا تھا کہ سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، چاہے وہ بیجنگ ہے، ماسکو ہے، یورپی ممالک ہیں یا واشنگٹن کہ برصغیر میں امن اور استحکام ہو۔

انھوں نے کہا: ’دنیا کی آبادی کا نصف اس خطے میں بستا ہے۔ جہاں جہالت ہے، غربت ہے اور بیماری ہے۔ کب تک ہم ایک دوسرے کے ساتھ جنگوں میں مصروف رہیں گے؟ ہماری خواہش تو یہی ہے کہ آئیں اپنے ملکوں کو بنائیں بجائے اس کے کہ ہم ایک دوسرے کے ممالک کو تباہ کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیں۔‘

اسی بارے میں