عاشورہ پر سکیورٹی الرٹ، متعدد مذہبی رہنما زیرِ حراست

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عاشورہ پر لاہور شہر میں سکیورٹی کویقینی بنانے کے لیے 15 ہزار اہلکار تعینات کیے جارہے ہیں

صوبہ پنجاب میں محرم الحرام کے دوران سکیورٹی خدشات کی وجہ سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ نقصِ امن کے خدشے کے پیشِ نظر مختلف مسالک کے متعدد مذہبی رہنماؤں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے اور بیشتر کی نقل و حمل پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

پنجاب پولیس کے حکام نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ مختلف مسالک کے 56 مذہبی رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا۔

پولیس کے مطابق 1158 مذہبی رہنماؤں کا محرم کے دوران پنجاب میں داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے جبکہ 341 علما کے اجتماعات سے خطابات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

سکیورٹی کی غرض سے حکومت نے پنجاب بھر میں دو لاکھ پولیس، سکیورٹی اہلکاروں اور رضاکاروں کو تعینات کیا ہے۔

اس کے علاوہ دس محرم الحرم کو صبح آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے تک موبائل فون سروس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ نویں اور دسویں محرم کو صوبے کے مختلف شہروں میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

عاشورہ محرم میں سکیورٹی کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے ہونے والے اجلاس میں امام بارگاہوں، مساجد اور عبادت گاہوں کی سخت نگرانی کرنے اور جلوسوں اور مجالس کے اردگرد چار درجے کا حفاظتی حصار بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے پولیس حکام کو ہدایت دی کہ وہ محرم کے دوران ہم آہنگی قائم رکھنے کے لیے ضابطہ اخلاق پر پابندی کو یقینی بنائیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نفرت انگیز اور مذہبی منافرت پر مبنی تقریروں اور تحریروں پر پابندی پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے گا اور عاشورہ محرم کے موقع پر عوام کی سہولت کے لیے بڑے شہروں میں متبادل ٹریفک روٹس ترتیب دیے جائیں گے۔

صرف لاہور شہر میں عاشورہ محرم کے دوران 437 تعزیتی جلوسوں اور لگ بھگ چار ہزار مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس کی سکیورٹی کے لیے لاہور شہر میں 15 ہزار اہلکار تعینات کیے جارہے ہیں۔

سیکورٹی کو فول پروف بنانے اور معاونت کے لیے پولیس کی جانب سے سینکڑوں رضاکاروں کو بھی تربیت دی گئی ہے۔

اسی بارے میں