صوابی میں پولیس کارروائی میں چار شدت پسند ہلاک، دس فرار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس علاقے میں 15سے 16 شدت پسند روپوش ہیں: ڈپی پی او صوابی جاوید اقبال

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر صوابی میں پولیس اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں چار شدت پسند ہلاک ہو گئے جبکہ دس سے 12 شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

یہ واقعہ صوابی شہر سے 18 کلومیٹر دور مشرق میں واقع اجمیر پہاڑی کے قریب پیش آیا۔ یہ علاقہ مینے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

صوابی کے ضلعی پولیس افسر جاوید اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ اس علاقے میں 15 سے 16 شدت پسند روپوش ہیں۔ پولیس اور انسداد دہشت گردی کے محکمے نے علاقے میں مشترکہ کارروائی بدھ کی صبح چار بجے شروع کی۔ جھڑپ کے دوران شدت پسندوں نے نہ صرف سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی بلکہ دستی بم بھی پھینکے۔

جاوید اقبال نے بتایا کہ پولیس کی فائرنگ سے چار شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک کی شناخت شوکت عرف عباس کے نام سے ہوئی ہے اور یہ پولیس کو متعدد مقدمات میں مطلوب تھا۔

جاوید اقبال نے بتایا کہ اس کارروائی میں پولیس کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ دو سے تین گھنٹے تک جاری رہا۔ اس کارروائی کے دوران دیگر شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن کیا ہے جس میں 35 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں چند روز پہلے پولیس اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا تھا اور ایک شدت پسند نے زخمی ہونے کے بعد خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔

پولیس کے مطابق علاقے میں شدت پسندوں کی نقل و حرکت کی اطلاعات تھیں۔ پولیس نے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن بھی شروع کیے ہیں اور اس دوران متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

پشاور میں بھی مختلف علاقوں میں یکم محرم سے پہلے سے ہی یہ سرچ آپریشن جاری ہیں اور اس میں زیادہ توجہ اندرون پشاور شہر کو دی جا رہی ہے جہاں بیشتر امام بارگاہیں قائم ہیں۔

اسی بارے میں