بلوچستان: مستونگ سے ایک ہندو تاجر اغوا

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption بلوچستان میں سنہ 2008 سے ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے اغوا کا سسلسلہ شروع ہوا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ سے ایک ہندو تاجر کو اغوا کیا گیا ہے۔

مستونگ انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہندو تاجر کو کوئٹہ شہر کے قریب ضلع مستونگ کے علاقے لکپاس سے اغوا کیا گیا۔

ہندو تاجر جن کی شناخت ساجن داس کے نام سے ہوئی ہے ایک گاڑی میں قلات سے کوئٹہ شہرکی جانب آرہے تھے۔

جب گاڑی لکپاس کے علاقے میں پہنچی تو وہاں پر موجود نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی کو روکا۔

انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ گاڑی میں سوار لوگوں کے شناختی دستاویزات کو دیکھنے کے بعد مسلح افراد ہندو تاجر کو اپنے ساتھ لے گئے ۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ساجن داس قلات شہر کا رہائشی ہے۔

قلات سے اس سال جون اور جولائی کے مہینے میں بھی دو ہندو تاجر بھائیوں کو اغوا کیا گیا تھا۔

ان بھائیوں میں سے دیپک کمار کو جون کے مہینے میں جبکہ راجیش کمار کو آٹھ جولائی کو اغوا کیا گیا تھا۔

بلوچستان میں سنہ 2008 سے ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے اغوا کا سسلسلہ شروع ہوا اور ان میں سے زیادہ تر کو تاوان کے بعد رہا کیا گیا۔ دوسری جانب افغانستان سے متصل قلعہ سیف اللہ سے بلوچستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے پانچ ملازمین اور ایک ٹھیکیدار سمیت جن چھ افراد کو اغوا کیا گیا تھا ان کی بھی تاحال بازیابی عمل میں نہیں آئی۔

انھیں نامعلوم افراد نے 14 ستمبر کو اغوا کیا تھا۔

اسی بارے میں