’ملاقات میں سکیورٹی مسائل پر بات چیت سرفہرست رہے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف جمعرات کو امریکی صدر اوباما سے ملاقات کر رہے ہیں جس کے دوران افغانستان کے استحکام اور مفاہمتی عمل میں پاکستان کے کردار اور خطے کی استحکام میں تعاون سے متعلق امور زیر غور آئیں گے۔

وزیراعظم نواز شریف امریکی صدر اوباما کی دعوت پر چار روز دورے پر واشنگٹن میں ہیں۔

نواز شریف کی جان کیری سے ملاقات کی ویڈیو فوٹیج

پاکستان جوہری پروگرام کے راز کیوں کھول رہا ہے؟

’پاکستان نے بھارتی مداخلت کے ثبوت امریکہ کے حوالے کر دیے‘

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر اوباما اور نواز شریف کے درمیان ملاقات میں سکیورٹی سے متعلق مسائل پر بات چیت سرفہرست رہے گی۔

یہ ملاقات ایک ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب پاکستان کے پڑوسی ملک افغانستان میں طالبان کا کنٹرول بڑھ رہا ہے اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد سے سنہ 2015 میں افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے بدھ کی رات واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی کے لیے ہرگز استعمال نہیں ہونے دے گا۔

امکان ہے کہ اس ملاقات میں امریکی صدر افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر دوبارہ لانے کے لیے پاکستان کے کردار پر بات کریں گے۔

اس سے قبل طالبان اور افغان حکام کے درمیان مذاکرت کے دو ادوار پاکستان میں منعقد ہوئے ہیں لیکن افغان طالبان کے امیر ملا محمد عمر کی ہلاکت کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مفاہمتی عمل تعطل کا شکار ہے۔

حال ہی میں صدر اوباما نے کہا تھا کہ ’میں خطے میں موجود تمام افراد سے کہوں گا کہ وہ طالبان پر امن مذاکرات کے لیے دباؤ ڈالیں اور افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنا حصہ ڈالیں۔‘

پاکستان میں دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کسی حد تک افغان طالبان پر اثرو رسوخ رکھتا ہے اور مذاکرات دوبارہ شروع کروانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری کا کہنا ہے کہ ’امریکہ چاہتا ہے کہ افغان مصالحتی عمل کو دوبارہ شروع کروائے لیکن ایسے وقت میں جب افغان حکومت پاکستان پر الزام تراشی میں مصروف ہے پاکستان اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ افغان طالبان کی ناراضی مول لے۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے افغان طالبان سے تعلقات ضرور ہیں اور کسی حد تک اثر و رسوخ بھی ہے لیکن ’امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان مذاکرات بھی کرائے اور افغان طالبان کے خلاف کارروائی بھی کرے۔ پاکستان اس حد امریکہ کی مدد نہیں کر سکتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغان طالبان کے امیر ملا محمد عمر کی ہلاکت کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مفاہمتی عمل تعطل کا شکار ہے

نواز شریف کے امریکہ کے دورے کے دوران امریکی ذرائع ابلاغ میں پاکستان کے جوہری پروگرام پر خدشات کے حوالے سے کئی خبریں شائع ہوئی ہیں لیکن وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے جوہری پروگرام یا اُس کی صلاحیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں ہے۔

سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کا مقصد بھارتی جارحیت منہ توڑ جواب دینا ہے۔

پاکستان کے اعلیٰ حکام کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔

دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ پاکستان کو آٹھ F16 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کو F16 کی مجوزہ فروخت کے بارے میں امریکی کانگریس کو ایک روز قبل آگاہ کیا گیا ہےگو کہ امریکی کانگریس اس دفاعی سمجھوتے کو روک بھی سکتی ہے۔

اخبار کے مطابق مزید آٹھ لڑاکا جیٹ طیاروں ملنے کا بعد پاکستان کے پاس F16 طیاروں کی مجموعی تعداد 70 ہو جائے گی۔

تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری کا کہنا ہے کہ اوباما اور نواز شریف کے درمیان ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے اُمور بھی زیر بحث آئیں گے۔

’کیری لوگر بل کے خلاف امریکی کانگریس کا فیصلہ، اتحادی سپورٹ فنڈ کے تحت ملنے والی رقوم میں کٹوتی اور کاؤنٹر ٹیررزم فنڈ پر بھی بات ہو گی اور اس ضمن میں کسی متفقہ فریم ورک کا اعلان متوقع ہے۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اسی بارے میں