شمالی سندھ کب اور کیسے نشانہ بنا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی سندھ گذشتہ چند سالوں سے شدت پسندوں کے نشانے پر ہے

پاکستان کے صوبے سندھ کے شہر جیکب آباد میں ماتمی جلوس میں بم دھماکہ اندرون سندھ میں خودکش بم حملے کا پانچواں واقعہ ہے، اس سے قبل سکھر، شکارپور میں یہ واقعات پیش آچکے ہیں۔

جیکب آباد سے 40 کلومیٹر دور واقع شکارپور شہر میں رواں سال جنوری میں امام بارگاہ میں خودکش بم دھماکہ کیا گیا، جس میں 57 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

جنوری 2013 میں شکارپور شہر سے دس کلومیٹر دور واقع درگاہ غازی شاہ میں نصب ایک بم دھماکے میں گدی نشین سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے، یہ شیعہ درگاہ ہے جس کے عقیدت مندوں کی بڑی تعداد بلوچستان سے تعلق رکھتی ہے۔

اس سے اگلے ماہ فروری میں جیکب آباد میں بریلوی مسلک کے پیر سائیں حسین شاہ کی گاڑی کے قریب بم دھماکہ کیا گیا تھا، جس میں وہ محفوظ رہے تاہم ان کا پوتا ہلاک ہوگیا تھا۔

مئی2013 میں شکار پور میں سیاستدان ابراہیم جتوئی کے انتخابی قافلے پر خودکش حملہ کیا گیا لیکن بلٹ پرؤف گاڑی میں سوار ہونے کی وجہ سے وہ محفوظ رہے۔

سکھر میں 24 جولائی 2013 میں پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے دفتر پر خودکش حملہ کیا گیا ، جس میں دو بمباروں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ کالعدم تحریک طالبان مہمند ایجنسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

17 دسمبر2010 میں شکار پور میں عاشورۂ محرم کے موقع پر ایک مجلس پر حملے کی کوشش کے دوران ایک مشتبہ خودکش بمبار ہلاک ہوگیا جبکہ چار پولیس اہلکار ہوگیا، اس مجلس کا انتظام بھی جتوئی خاندان نے کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انگریز جرنیل جان جیکب کے نام سے قائم جیکب آباد شہر کی سرحدیں بلوچستان اور پنجاب سے ملتی ہیں

جیکب آباد میں دھماکے سے قبل وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاھ نے جمعے کو محرم کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی تھی، جس میں ڈی جی رینجرز بلال اکبر نے آگاہ کیا کہ جیکب آباد، شکارپور، سکھر اور خیرپور میں 104 حساس مقامات کی نشاندھی کی گئی ہے اور جنوبی سندھ میں بارہ سو سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

انگریز جرنیل جان جیکب کے نام سے قائم جیکب آباد شہر سندھ کا سرحدی علاقہ ہے جس کی سرحدیں بلوچستان اور پنجاب سے ملتی ہیں، یہاں بلوچ قبائل بھی اکثریت سے آباد ہیں۔ اس دھماکے سے ایک روز قبل بلوچستان کے قریبی علاقے بھاگ ناڑی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا تھا۔

سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ شمالی سندھ میں دہشت گردی کی جڑیں بلوچستان سے ملتی ہیں۔ شکارپور امام بارگاہ میں گرفتار ایک ملزم خلیل بروہی کا تعلق بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی سے تھا، اسی طرح ڈاکٹر ابراہیم جتوئی پر حملے میں ملوث ایک ملزم کا تعلق بلوچستان سے ظاہر کیا گیا تھا۔

سندھ حکومت کھل کر دیگر صوبوں کے شدت پسندوں کے گٹھ جوڑ کا اظہار نہیں کرتی لیکن اس کو تسلیم ضرور کرتی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے آئی جی پولیس غلام حیدر جمالی کو ہدایت کی ہے کہ جیکب آباد واقعے کی وجہ بننے والی خامیوں کی نشاندہی کی جائے اور صوبے کی تمام داخلی راستوں پر خاص طور پر بلوچستان سے داخلی راستوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔

سندھ میں فرقہ ورانہ شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں میں گذشتہ چند سالوں میں اضافہ ہوا ہے، خیرپور، کشمور، جیکب آباد، شکارپور اور شہداد کوٹ میں اس کا واضح مظہر نظر آتا ہے۔ ان تنظیمیوں کی قیادت شمالی سندھ سے تعلق رکھتی ہے جبکہ انھیں اپنے ہم مکتب فکر قیادت کی بھی حمایت حاصل ہے۔ رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری، رہائی اور ہلاکتوں پر یہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتی رہتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شکارپور شہر میں رواں سال جنوری میں امام بارگاہ میں خودکش بم دھماکہ کیا گیا، جس میں 57 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے

جیکب آباد شہر مذہبی جماعتوں کے احتجاج کا اس وقت مرکز بنا تھا جب ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے جیکب آباد ایئر بیس کو امریکہ کے حوالے کردیا تھا، جس کے خلاف جمعیت علما اسلام سمیت دیگر جماعتیں احتجاج کرتی رہیں۔ان جماعتوں کا موقف تھا کہ افغانستان میں بمباری کے لیے امریکی طیارے یہاں سے پرواز کرتے ہیں۔

سنہ 2009 سے میڈیا کے کچھ حصوں میں یہ خبریں آتی رہیں کہ جیکب آباد ایئر بیس سے امریکی ڈرون پرواز کرتے ہیں جس سے بے گناہ لوگوں کی بھی ہلاکتیں ہوتیں ہیں لیکن ان پروازوں کی کبھی تصدیق نہیں ہوئی۔

اکتوبر 2010 میں شکارپور میں نیٹو کے 27 ٹینکروں کو نامعلوم افراد نے نذر آتش کردیا تھا، پچھلے دنوں ڈاک یارڈ پر مبینہ حملے میں ہلاک ہونے والے سیلر اویس جکھرانی کا تعلق بھی جیکب آباد سے تھا، جس کو القاعدہ برصغیر نے اپنا رکن قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں