گیتا پیر کو بھارت چلی جائیں گی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت کے صوبے بہار کے ایک خاندان نے پندرہ روز قبل گیتا کی شناخت کی تھی

پاکستان میں فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن میں مقیم بھارتی لڑکی گیتا پیر کو بھارت روانہ ہوجائیں گی، بھارت میں ان کے والدین کی حتمی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

گذشتہ 13 سالوں سے عبدالستار ایدھی کے گھر میں مقیم گیتا کو چھوڑنے کے لیے بلقیس ایدھی، ان کی بہو اور بیٹا سعد ایدھی ہمراہ کراچی سے بذریعہ پرواز نئی دہلی جائیں گے۔

’ہماری فلم گيتا کی کہانی سے مختلف ہے‘

گیتا کو بجرنگی بھائی جان کی تلاش؟

فیصل ایدھی نے بتایا کہ گیتا ان سے ناراض ہے کہ وہ کیوں ساتھ نہیں جارہے، وہ کچھ اداس بھی ہے کیونکہ وہ بارہ تیرہ سالوں سے یہاں رہتی آئی ہے لیکن اسے اپنے وطن جانے کی خوشی اس سے کہیں زیادہ ہے۔

گیتا واہگہ بارڈر سے اتفاقی طور پر بذریعہ سمجھوتہ ایکسپریس پاکستان کی حدود میں داخل ہوئی تھیں۔ لاہور پولیس نے انھیں ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے کیا اور کچھ عرصہ لاہور اور اسلام آباد میں مقیم رہنے کے بعد میں انھیں کراچی منتقل کر دیا گیا تھا۔

بھارت کے صوبے بہار کے ایک خاندان نے پندرہ روز قبل گیتا کی شناخت کی تھی، لیکن فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ اس میں تھوڑا ابہام ہے۔

’وہ خاندان کہتا ہے کہ گیتا شادی شدہ تھی اس کا ایک بچہ ہے، اس کے برعکس گیتا کا کہنا ہے کہ وہ شادی شدہ نہیں۔ وہ جب آئی تو اس کی عمر دس برس تھی۔ اب جب وہ وہاں جائے گی، ڈی این اے ٹیسٹ اور تحقیقات ہوگی تو پھر اندازہ ہوسکے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فیصل ایدھی نے بتایا کہ گیتا ان سے ناراض ہے کہ وہ کیوں ساتھ نہیں جارہے

ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے گیتا کے ورثا کے دعویدار خاندان سے سکائپ پر بھی رابطے کی کوشش کی گئی تھی لیکن یہ ممکن نہیں ہوسکا۔

فیصل ایدھی کے مطابق یہ خاندان ایک ایسی جگہ رہتا ہے جہاں انٹرنیٹ کے سگنل بہت کمزور ہیں۔ سکائپ کال کی کوالٹی ٹھیک نہیں تھی اور تصویر بھی نظر نہیں آرہی تھی۔

بھارت میں ہندو شدت پسند تنظیم شیو سینا کی جانب سے پاکستان کے کھلاڑیوں، گلوکاروں اور فنکاروں کو دہمکیوں اور حملے کی کوششوں کے باوجود گیتا کے معاملے میں یہ کشیدگی غالب نہیں آئی ہے۔

فیصل ایدھی کے مطابق دونوں ملکوں کی حکومت نے بغیر کسی جھجھک کی گیتا کی مدد کی ہے، حکومت پاکستان نے جب اس کی بھارتی شہری کے طور پر شناخت کی تو بھارتی وزارت خارجہ نے فوری سفری دستاویز تیار کرلیے ان سے صرف ٹیلیفون پر کچھ تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔

پاکستان میں ایدھی فاؤنڈیشن برسوں سے لاوراث اور گمشدہ لڑکیوں کو پناہ دے رہا ہے جن میں سے کئی کو دوبارہ خاندانوں سے ملایا بھی گیا ہے۔

فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ اس کیس کی منفرد بات یہ ہے کہ یہ سرحد عبور کرنے کا معاملہ تھا، دوسرا خاندان کا پتہ نہیں چل رہا اور سب سے زیادہ اہم بات یہ کہ لڑکی بول اور سن نہیں سکتی۔’اگر سرحد درمیان میں نہ ہوتی تو ہم کئی سال پہلے ورثا کو تلاش کرچکے ہوتے۔‘

اسی بارے میں