حالیہ برسوں کے زلزلوں کی تاریخ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اطلاعات کے مطابق زلزلے سے پاکستان میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے ہیں

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پاکستان، افغانستان اور انڈیا کے مختلف علاقوں میں ریکٹر سکیل پر 7.5 شدت کا زلزلہ آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق زلزلے سے پاکستان میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اب تک افغانستان میں 20 ہلاکتوں اور سینکڑوں زخمیوں کی اطلاعات آرہی ہیں۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز ہندو کش کا پہاڑی علاقہ ہے جو کہ افغانستان کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔

ذیل میں پاکستان میں گذشتہ برسوں میں آنے والے زلزلوں کی مختصر تاریخ بیان کی گئی ہے۔

مکمل ٹائم لائن: پاکستان میں زلزلوں کی تاریخ

زلزلے کی لائیو اپ ڈیٹس

اس سے پہلے پاکستان کے شمالی علاقوں اور کشمیر میں ایک شدید زلزلہ آٹھ اکتوبر سنہ 2005 کو آیا تھا جس میں 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور 33 لاکھ افراد بے گھر۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے پاس کوئی اعداد و شمار نہیں ہیں کہ اس زلزلے کے نتیجے میں کتنے لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔

سنہ 2005 کے زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 7.6 تھی۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 24 اکتوبر سنہ 2013 کو آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے میں 270 سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی۔

بلوچستان ماضی میں بھی کئی بار زلزلوں کا نشانہ بنتا رہا ہے اور صوبے میں زلزلے سے سب سے زیادہ تباہی سنہ 1935 میں آنے والے زلزلے میں ہوئی تھی۔

اس زلزلے نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کو تباہ کر دیا تھا اور 60 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے قبل سنہ 1827 اور 1931 کے درمیان بلوچستان کے مختلف علاقوں میں نو مختلف زلزلے آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچستان ماضی میں بھی کئی بار زلزلوں کا نشانہ بنتا رہا ہے
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ستائیس فروری انیس سو ستانوے میں بلوچستان میں ہرنائی کے مقام پر ایک بڑی شدت کا زلزلہ آیا جس سے کوئٹہ، ہرنائی اور سبی میں لینڈ سلائیڈنگ سے پچاس افراد ہلاک ہوگئے تھے

پاکستان میں سال دو 2012 میں کوئی بڑا زلزلہ نہیں آیا تاہم ملک کے مختلف علاقوں میں متعدد بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے لیکن ان کی شدت اتنی زیادہ نہیں تھی۔

اسی طرح جنوری2011 میں ملک کے جنوب مغربی علاقے میں 7.2 شدت کا زلزلہ آیا تاہم بہت گہرائی میں ہونے کی وجہ سے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔

اس سے قبل 2008 میں اکتوبر کے مہینے میں بلوچستان ہی 6.4 شدت کے زلزلے کا نشانہ بنا اور اس قدرتی آفت سے 300 افراد مارے گئے۔

پاکستان کی حالیہ تاریخ میں زلزلے میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان آٹھ اکتوبر 2005 کو ہوا۔

شمالی علاقوں اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 7.6 شدت کے زلزلے سے 73000 افراد ہلاک ہوئے اور وسیع علاقے میں املاک کو نقصان پہنچا اور اب تک ان علاقوں میں زلزلے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔

اس سے پہلے سنہ 2002 میں بھی کشمیر کے علاقے میں زلزلے آئے تھے۔

2002 میں ہی نومبر کے مہینے میں گلگت کا علاقہ تین مرتبہ زلزلوں کا نشانہ بنا تھا۔

20 نومبر سنہ 2002 کو گلگت میں آنے والے زلزلے میں 22 افراد ہلاک ہوئے تھے اورگلگت اور استور میں لینڈ سلائیڈنگ سے پندرہ ہزار لوگ بے گھر ہوگئے تھے۔

اس سے پہلے یکم اور تین نومبر کو بھی گلگت اور استور میں آنے والا زلزلے پشاور، اسلام آباد اور سری نگر تک محسوس کیے گئے۔ ان زلزلوں سے شاہراہ قراقرم بند ہوگئی تھی جبکہ کل 18 افراد ہلاک اور 65 زخمی ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں