’جھگڑا بڑوں سے ہوتا ہے بچوں سے تو نہیں‘

Image caption جیکب آباد میں محرم کے جلوس پر بم حملے میں بلال بروہی کی ٹانگ جاتی رہی

جیکب آباد میں محرم کے جلوس میں بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 28 ہوگئی ہے، جن میں اٹھارہ بچے بھی شامل ہیں۔ کراچی کے آغا خان ہپستال میں زیر علاج 10 سالہ عائشہ زخموں کی تاب نہ لاکر فوت ہوگئیں، دھماکے کے 11 شدید زخمیوں کو بذریعہ جہاز کراچی منتقل کیا گیا تھا جہاں نجی ہپستال کے ڈاکٹر ان کی حالت معمول پر لانے کے لیے کوشاں ہیں۔

اس دھماکے میں بلال بروہی بھی زخمی ہوئے ہیں جو اس وقت آغا خان ہپستال میں زیر علاج ہیں، ان کے مطابق جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت دلدل ناچ رہی تھی اور فقیر مانگ رہے تھے۔ جیسے ہی جلوس آگے کے لیے روانہ ہوا اور یاعلی مدد کی صدا بلند ہوئی تو زوردار دھماکہ ہوا۔

’میں وہیں گرگیا پانچ منٹ تک تو مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ مجھے بھی چوٹ لگی، لڑکے ماما ماما کہہ کر مجھ سے لپٹ گئے۔ میں نے نیچے دیکھا تو ٹانگ نہیں تھی اور اطراف میں انسان جسم کے ٹکڑے، ہاتھ اور ٹانگیں وغیرہ پھیلی ہوئی تھیں۔‘

جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت لاشاری محلہ میں بجلی نہیں تھی۔ پیر بخش لاشاری کی بیٹے اور دو بیٹیوں نے جلوس کی آواز پر باہر جانے کی خواہش ظاہر کی والد نے انہیں جانے کی تو اجازت دی لیکن ساتھ رش میں احتیاط برتنے کا بھی مشورہ دیا۔ بچوں کے نکلتے ہی پانچ منٹ کے بعد دھماکہ ہوا۔

’ہمارے گھر کے باہر لاشیں بکھری ہوئی تھیں میرا سات سالہ بیٹا سراج زخمی تھا اس نے آواز لگائی بابا۔ میں نے کہا یہ کیا ہوا وہ زمین پر گرگیا ساتھ میں دونوں بیٹیاں بھی زخمی تھیں میں انہیں موٹر سائیکل پر دوست کے ساتھ لےکر نجی ہپستال کی طرف روانہ ہوا۔‘

پیر بخش نے ایک بیٹی کو آگے بٹھایا اور دوسری کو کندھے پر ڈال دیا جبکہ بیٹا اس کے دوست کے ہاتھوں میں تھا، ان کے مطابق بیٹا سانس لے رہا تھا انھوں نے اس سینے اور پیروں پر مالش بھی کی جب ہپستال پہنچے تو ڈاکٹروں نے کہا کہ اس کام دم نکل گیا ، اس کے ساتھ ہی پیربخش کا آنکھوں کا بند توڑ کر آنسو نکل آئے اور اس نے سسکیوں میں کہا کہ اسے بیٹے کا بڑا ارمان تھا۔

مزدوری پیشہ پیر بخش کی ایک بیٹی آغا خان جبکہ دوسری جیکب آباد ایئر بیس ہپستال میں زیر علاج ہے۔ بیٹے کی تدفین کے بعد اب وہ بیٹیوں کے صحت یابی کے لیے فکر مند ہے ۔

سول ہپستال میں عملے اور سہولیات کے فقدان کی وجہ سے صوبائی حکومت کی اپیل پر زخمیوں کو دوسرے ہپستالوں میں منتقل کیا گیا۔ زخمی بلال بروہی کا کہنا ہے کہ جب انہیں سول ہپستال پہنچایا گیا تو کوئی سننے والا ہی نہیں تھا۔ ہسپتال میں لوگ تڑپ رہے تھے اسی دوران کچھ لوگ مر گئے جن میں ان کا ایک کزن بھی شامل ہے۔

Image caption پیر بخش لاشاری کا سات سالہ بیٹا مارا گیا جبکہ دو بیٹیاں زخمی ہیں

’ ڈاکٹر کیا پٹی باندھے والا تک نہ تھا اس کے بعد فوجی آئے اور ایئربیس ہپستال لے گئے جہاں تمام سہولیت موجود تھیں۔‘

پیر بخش لاشاری نے بھی ان کے موقف کی تائید کی اور کہا کہ ’سول ہپستال میں کچھ نہیں رکھا حکومت کو چاہیے کہ اس کو بند کردے۔‘

شیعہ تنطیموں کے احتجاج اور دھرنے کے بعد ایس ایس پی جیکب آباد ملک ظفر کا تبادلہ کردیا گیا اور واقعے کا مقدمہ سرکاری کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

واقعے کی تحقیقات میں شامل ایک پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ کوئٹہ اور پنجاب میں لشکر جھنگوی کی قیادت کے خلاف کارروائی کے بعد انہوں نے بلوچستان کے علاقوں جعفرآباد اور نصیر آباد میں پناہ گاہ بنا لیں ہیں جہاں سے سندھ میں کارروائی کی جارہی ہیں۔ کیونکہ یہاں سے ٹارگٹ تک پہنچانا اور اسلحے بارود پہنچا آسان ہے۔

پیر بخش لاشاری سے میں نے سوال کیا کہ ان کے خیال میں اس دھماکے میں کون ملوث ہوسکتا؟ تو اس کا کہنا تھا کہ’ کوئی مسلمان ایسا نہیں کرسکتا، کیونکہ جنگ اور جھگڑا بڑوں کے ساتھ ہوتا ہے بچوں کے ساتھ نہیں۔‘

’جو ہلاک ہوئے ہیں ان میں اکثرمعصوم بچے اور بچیاں تھیں ان کا کیا قصور تھا۔‘

اسی بارے میں