ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فائرنگ پاکستان کا شدید احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ ROBIN SINGH
Image caption پاکستان کے مطابق گذشتہ دو ماہ کے دوران بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی کی 70 مرتبہ خلاف ورزی کی گئی ہے

پاکستان نے شکر گڑھ اور ظفروال سیکٹر میں بھارتی سکیورٹی فورس بی ایس ایف کی ’بلا اشتعال‘ فائرنگ پر بھارت سے شدید احتجاج کیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق بھارتی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ایک لڑکی سمیت تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

’سرحدوں پر فائرنگ امن کے لیے خطرہ ہے‘

’ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فائرنگ سے پانچ شہری زخمی‘

پاکستان میں بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو پیر کی صبح دفتر خارجہ طلب کر کے ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی ’بلا اشتعال‘ فائرنگ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور احتجاج ریکارڈ کروایا۔

پاکستان نے بھارتی حکومت سے گورنر ہاؤس سندھ کو موصول ہونے والی دھمکی آمیز فون کال کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ بھی کیا ہے اور تحقیقات کے نتائج سے پاکستان کو آگاہ کرنے کا کہا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’بھارت کی جانب سے عام شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا نفرت انگیز اور افسوس ناک عمل ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے فائر بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں تشویش ناک ہیں اور لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر امن برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ فائر بندی کے 2003 کے سمجھوتے پر عمل کیا جائے۔

گذشتہ چند ماہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر سخت کشیدگی ہے اور دونوں طرف متعدد سکیورٹی اہلکار اور عام شہری مارے جا چکے ہیں۔

دونوں ملکوں کے سکیورٹی حکام ایک دوسرے پر فائرنگ میں پہل کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

یاد رہے کہ اگست میں پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا تھا گذشتہ دو ماہ کے دوران بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی کی 70 مرتبہ خلاف ورزی کی گئی ہیں۔