’پاکستان کی تاریخ میں ایسی بارشیں، برف باری نہیں دیکھی گئی‘

Image caption اسلام آباد اور راولپنڈی میں دو دنوں کے دوران 166 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی

پاکستان کے محمکہ موسمیات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد حنیف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی حالیہ بارشوں اور برف باری کی پیش گوئی کی گئی تھی لیکن اتنی شدید بارشوں کا امکان نہیں تھا۔

محمد حنیف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اکتوبر کے مہینے میں عموماً پاکستان کے 90 فیصد علاقوں میں موسم خشک رہتا ہے اور ناران، کاغان میں بھی برف باری عام طور پر دسمبر یا جنوری کے مہینے میں ہی ہوتی ہے۔‘

ناران برفباری میں اب بھی 500 سیاح محصور: حکام

ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ دو دنوں میں دو فٹ تک برف باری کے ساتھ ساتھ راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی اکتوبر کے مہینے میں دو دنوں کے دوران 166 ملی میٹر بارش بھی غیر معمولی بات ہے۔ اس سے قبل پاکستان کی تاریخ میں ایسی بارشیں اور برف باری ان دنوں کے دوران نہیں دیکھی گئی ہیں۔‘

محمد حنیف نے بتایا کہ ان بارشوں کی وجہ سے پاکستان سمیت کئی دیگر ممالک میں موسم سرما آغاز وقت سے پہلے ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق موسم سرما کے جلد آغاز اور موجودہ موسمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس سال شدید سردی پڑنے کا امکان ہے۔

حالیہ بارشوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ناران اور کاغان میں 50 فیصد تک موسم صاف ہو جائے گا۔تاہم انھوں نے بتایا کہ نومبر کے پہلے ہفتے میں مزید بارشوں اور برف باری کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ کاغان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شدید برف باری ہوئی ہے جس کی وجہ سے ناران اور بالاکوٹ کے درمیان سڑک بند ہوگئی ہے جس سے علاقے میں سینکڑوں سیاح پھنس گئے ہیں۔

مانسہرہ کے ضلعی پولیس سربراہ نجیب الرحمان نے بتایا ہے کہ ناران بازار اور آس پاس کے علاقوں میں برف باری، تنگ سڑک اور گاڑیوں کے رش کی وجہ سے بدستور سینکڑوں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔ تاہم پیر کی شام تک تمام پھنسے ہوئے افراد کو علاقے سے بحفاظت نکال لیا جائےگا۔

اسی بارے میں