’ابھی تک تمام متاثرہ علاقوں تک امداد نہیں پہنچ سکی‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption زلزلے کے بعد مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں

پاکستان میں پیر کو آنے والے زلزلے کے بعد اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق سب سے زیادہ تباہی صوبہ خیبرپختونخوا میں ہوئی جہاں 202 افراد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔

ملک میں اب تک مجموعی طور پر 248 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ تاہم مالی اور جانی نقصان میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور زلزلے کے بعد مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

زلزلے کی تباہی کی چند تصاویر

زلزلے سے خوف زدہ شہری کھلے آسمان تلے

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے نے تسلیم کیا ہے کہ امدادی ادارے ابھی تک گذشتہ روز آنے والے زلزلے سے متاثرہ تمام علاقوں تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں کیونکہ متاثرہ علاقہ بہت وسیع اور دشوار گزار ہے اور بہت سی جگہوں پر سڑکیں بھی قابل استعمال نہیں ہیں۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار آصف فاروقی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے این ڈی ایم اے رکن اور ترجمان احمد کمال نے کہا کہ بہت سے ایسے علاقے یقیناً ہیں جہاں تک سرکاری رسائی نہیں ہو سکی ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری ہونے والے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں زلزلے سے ہلاک ہونے والے افراد کی کل تعداد 248 جبکہ 1665 زخمی ہیں۔

سب سے زیادہ صوبہ خیبر پختونخوا متاثر ہوا جہاں 202 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ صوبہ بھر میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 1486 ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق خیبرپختونخوا سے متصل قبائلی علاقوں میں کل 30 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

گلگت بلتستان میں نو، پنجاب میں پانچ اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں سب سے زیادہ مالی نقصان خیبرپختونخوا میں ہوا۔4392 منہدم ہونے والے مکانات میں سے 3952 مکانات اسی صوبے میں موجود تھے۔

متاثرہ علاقوں تک رسائی

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے منگل کو لندن سے وطن واپسی پر وزیراعظم ہاؤس میں زلزلے سے ہونے والے نقصان اور امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کی جس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی شرکت کی۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ حکومت متعلقہ حکام کی جانب سے نقصان کا جائزہ لینے کے بعد زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کرے گی۔

نواز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا اور فاٹا میں بحالی کے کاموں کی مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

نواز شریف کو بتایا گیا کہ متاثرہ علاقوں میں تمام اہم سڑکوں کو کھول دیا گیا ہے جبکہ دیگر راستوں کے کھولنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ این ڈی ایم اے کی جانب سے چھ ریسکیو اور سرچ ٹیمیں بھیج دی گئی ہیں۔

دوسری جانب پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا کی حکومت نے زلزلے سے متاثہ علاقوں کے لوگوں کے لیےخوراک کے 1000 پیکجز اور 2000 خیمے ، کمبل اور بستر روانہ کیے ہیں۔

پنجاب حکومت نے 10 ہزار خیمے، 10 ہزار کمبل، ایک موبائل ہسپتال، تین میڈیکل ٹیمیں اور 150 امدادی کارکن زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امداد سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے روانہ کیے ہیں۔

این ڈی ایم کا کہنا ہے کہ گلگت بلستان میں زلزلے کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہوئے۔ سب سے زیادہ تباہی غذر اور دیامیر میں ہوئی۔ غذر میں چار ہلاکتیں ہوئی اور 50 مکانات تباہ ہوئے جبکہ دیا میر میں دو ہلاکتیں ہوئیں اور 40 مکانات تباہ ہوئے۔

اسلام آباد میں کسی ہلاکت یا مکان کے منہدم ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم چند رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان کے مکانات کی دیواروں پر دراڑیں پڑ گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PMO

این ڈی ایم اے حکام نے کہا ہے دارالحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی میں ایک شخص ہلاک ہوا جبکہ 24 مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔

پنجاب میں مجموعی طور پر کل 28 مکان تباہ ہوئے ہیں اور 67 افراد زخمی ہیں۔

عالمی ردِعمل

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے زلزلے سے ہونے والی جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اگر درخواست کی گیی تو پاکستان کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔

زلزلے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو فون کیا ہے اور زلزلے میں ہونے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔جبکہ امریکی حکام نے بھی پاکستان کو پش کی پیشکش کی ہے۔