’ ڈاکٹر کو بلانا چاہا لیکن دیر ہو چکی تھی‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

محمد جان اپنے نواسے اور نوسی کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہے ہیں۔ ان کی آنکھوں سے آنسو گر رہے ہیں کیونکہ ان کے دونوں بچے پیر کو آنے والے زلزلے کے باعث گھر کے ملبے تلے آ کر ہلاک ہو گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کھ جب زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے تو وہ ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی دوران ان کےگھر کی چھت گر گئی۔ جب محمد جان کو مبلے کے نیچے سے نکالا گیا تو ان کو اپنے نواسے اور نواسی کی ہلاکت کا پتہ چلا۔

’ہم نے ڈاکٹر کو بلانا چاہا لیکن وہ تو مینگورا میں تھا اور اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔‘

’ابھی تک تمام متاثرہ علاقوں تک امداد نہیں پہنچ سکی‘

’زلزلے میں قراقرم ہائی وے 47 جگہوں سے متاثر‘

زمین کم میڈیا زیادہ ہل گیا

محمد جان کی نواسی چھ سال اور معذور نواسہ آٹھ سال کا تھا۔

’وہ مجھے سب سے زیادہ پسند تھا۔ میرے ساتھ بیٹھ کر بات کرتا تھا۔ میرے بڑھاپے کا سہارا تھا۔ بس اللہ کی مرضی ہے۔ دونوں زندہ تو نہیں ہو سکتے۔‘

محمد جان کا گھر مینگورا شہر سے قریباً 45 منٹ دور ایک پتھریلے اور پرخطر راستے پر واقع ہے۔

Image caption عامر رحمان کے گھر کے ہر کمرے میں دراڑیں پڑی ہوئی تھیں

یہ اسلام پور بستی کے قریب کاڈ کا علاقہ ہے اور اس کے ارد گرد چھ اور گھر ہیں جن میں ایک ہی خاندان کے چھ گھرانے رہتے ہیں۔

یہ گھر 15 سال قبل بنائے گئے تھے۔ گھر کے مرد سنگِ مرمر کی صنعت میں کام کرتے ہیں۔ اگر انھیں کام ملے، تو روزانہ 400 روپے کما لیتے ہیں۔

عامر رحمان کا گھر بھی انھی گھروں میں ہے۔ چار بچوں کے باپ ہیں اور ان کے ساتھ ان کے بھائی اور والدین بھی رہتے ہیں۔

انھوں نے اپنا گھر دکھایا تو ہر کمرے میں دراڑیں پڑی ہوئی تھیں۔ ان کو ڈر ہے کھ بارش یا زلزلے سے ان کا گھر گر بھی سکتا ہے۔

’اس گھر کو بنانے کے لیے میں نے اومان میں تین سال کام کیا۔ یہاں تک گھر کا سامان لانے کے لیے بہت زیادہ پیسے خرچ کیے مگر اب دوبارہ بنانے کے لیے تو میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔‘

مینگورا میں حکام کا کہنا ہے کہ 26 اکتوبر کے زلزلے سے اتنا نقصاں نہیں ہوا جتنی توقع تھی لیکن جو نقصان ہوا، وہ ان لوگوں کو ہوا جو سب سے غریب اور مفلسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک بار نقصان ہو، تو پورا کرنے میں سال لگ جاتے ہیں۔

Image caption زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے: ڈاکٹرز

ضلع سوات کے ڈپٹی کمشنر اشفاق یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ یہاں چار ہزارگھروں کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ 250 گھر مکمل طور پر مسمار ہو گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں 29 افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہوئے۔

لیکن سیدو شریف کے مرکزی ہسپتال کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ کالام کی سڑک کو کھول دیا گیا ہے اور وہاں سے مزید متاثرہ افراد مینگورا پہنچیں گے۔

اشفاق یوسفزئی کہتے ہیں کہ متاثر افراد کو راشن اور خیمے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

تاہم، کاڈ کے علاقے میں بچے چار پائیوں پر رضائیاں بچھا رہے ہیں۔ جب تک ایسے بچوں کو امداد نہیں ملتی، وہ ٹھنڈ میں کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہیں۔

اسی بارے میں