باجوڑ ایجنسی کے متاثرین امداد کے منتظر

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption تباہ ہونے والے دیہات میں شیرکانو شاہ کلے، غاغے، ماتوڑ، کوئیی کلے اور دیگر چھوٹے بڑے دیہات شامل ہیں

پاکستان میں 26 اکتوبر کو آنے والے تباہ کن زلزلے کی وجہ سے خیبر پختونخوا اور فاٹا کے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل باجوڑ ایجنسی میں تین دن گزرنے کے باوجود بھی نہ تو کوئی حکومتی امداد پہنچی ہے اور نہ کسی سرکاری اہلکار نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کی زحمت کی ہے۔

باجوڑ ایجنسی کے تین تحصیل سالارزئی، ماموند اور صدر مقام خار میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایجنسی بھر میں اب تک 22 افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔

تاہم علاقے میں جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ مالی نقصانات بھی وسیع پیمانے پر ہوئے ہیں۔ زلزلے کے باعث ایجنسی کا دور افتادہ سالارزئی تحصیل سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے جہاں بعض پہاڑی علاقوں میں پورے کے پورے گاؤں زلزلے کی زد میں آنے کے باعث مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔

ان تباہ ہونے والے دیہات میں شیرکانو شاہ کلے، غاغے، ماتوڑ، کوئیی کلے اور دیگر چھوٹے بڑے دیہات شامل ہیں۔ تباہ ہونے والے زیادہ ترگھر مٹی کے بنے ہوئے تھے۔ تاہم ان میں بیشتر علاقوں میں سڑکوں کی حالت پہلے ہی سے انتہائی ناگفتہ بہ ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں امداد پہنچنے میں مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

Image caption گاؤں کے تقریباً ڈھائی سوگھر مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں جبکہ باقی ماندہ بیشتر مکانات میں دراڑیں پڑ چکی ہیں

سالارزئی تحصیل کا گاؤں سانگو تقریباً پانچ سو مکانات پر مشتمل ہے۔ زلزلے کی وجہ سے اس گاؤں کے تقریباً ڈھائی سوگھر مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں جبکہ باقی ماندہ بیشتر مکانات میں دراڑیں پڑ چکی ہیں جو اب رہنے کے قابل نہیں رہے۔ اس گاؤں میں ابھی تک کوئی حکومتی اہلکار، سیاسی رہنما یا امدادی اداروں کے کوئی کارکن نہیں پہنچا ہے جس سے مقامی لوگ سخت مایوسی کا شکار ننظر آتے ہیں۔ زلزلے آنے کے بعد بی بی سی ذرائع ابلاغ کا پہلا ایسا ادارہ ہے جو اس گاؤں میں پہنچا ہے۔

اس گاؤں کی اکثریتی متاثرہ آبادی اپنی مدد آپ کے تحت تباہ شدہ مکانات سے ملبہ ہٹاتے ہوئے نظر آئے۔ گاؤں کے ایک باشندے نوشیر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ مکانات کی تباہی کی وجہ سے علاقے کے زیادہ تر مکین گزشتہ تین دنوں سے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ انھوں نے کہا کہ علاقے میں فوری طورپر امداد کی اشد ضرورت ہے ورنہ لوگوں کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

ان کے مطابق ’ گاؤں میں شاید ہی ایسا کوئی گھر ہوگا جو رہنے کے قابل ہو، جن مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے وہاں رہنا زیادہ خطرناک ہے کیونکہ زیادہ تر مکانات میں دراڑیں پڑچکی ہے جو بارش یا تیز آندھی کی صورت میں گر سکتے ہیں۔’

ان کے بقول ’ہمارے منتخب نمائندے اسلام آباد میں بیٹھ کر زندگی کے مزہ لے رہے ہیں انہیں ہم جیسے غریبوں کی کیا خبر۔‘

علاقے کے ایک اور باشندے گلاب شاہ نے کہا کہ علاقے میں مال مویشی بھی بڑی تعداد میں ہلاک ہوئے ہیں جس سے زیادہ تر غریب خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے بقول اس گاؤں میں بیشتر غریب خاندانوں کا انحصار مال مویشی پالنے پر تھا لیکن اب ایسے افراد مالی مسائل کا شکار ہوگئے ہیں۔

Image caption باجوڑ ایجنسی کے واحد ہیڈکوارٹر ہسپتال میں بدستور دور دراز علاقوں سے زخمیوں کو لایا جارہا ہے

علاقے کے باشندوں نے کئی ایسے پہاڑی علاقوں کی نام گنوائے جو ان کے مطابق زلزلے کی وجہ زیادہ متاثر ہوئے لیکن رسائی میں مشکلات کے باعث وہاں تاحال کوئی حکومتی امداد نہیں پہنچی ہے۔

باجوڑ ایجنسی کے واحد ہیڈکوارٹر ہسپتال میں بدستور دور دراز علاقوں سے زخمیوں کو لایا جارہا ہے۔ ہسپتال کے ایک سنئیر ڈاکٹر عبدالہادی نے کہا کہ ہسپتال میں حادثات پر قابو پانے کے تمام تر سہولیات تو موجود ہیں تاہم سٹاف کی کمی کی وجہ سے بعض مسائل موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ماہر ڈاکٹروں بالخصوص ہڈیوں کی سپیشلسٹ کی کمی کی وجہ سے زلزلے میں زخمی ہونے والے بعض مریضوں کو پشاور یا ملک دیگر شہروں میں علاج کےلیے منتقل کرنا پڑا۔

باجوڑ ایجنسی میں سردی کا موسم شروع ہوچکا ہے اور اگر زلزلہ زدہ علاقوں میں فوری طورپر بحالی کا کام شروع نہیں کیا گیا تو زلزلے کے مارے ہوئے سینکڑوں متاثرین کے مسائل میں کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔

یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ خیبر پختونخوا میں جس طرح زلزلے کے بعد فوج اور حکومتی مشینری حرکت میں آئی اور جس طرح وزیر اعظم نوازشریف سمیت سیاسی رہنماؤں کی جانب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کئے گیے اور وہاں متاثرین اور بحالی کے ضمن میں اعلانات کیے گئے اس پر ملک بھر میں عمومی طورپر قدرے اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ لیکن قبائلی علاقے بالخصوص باجوڑ ایجنسی میں زلزلے کی وجہ سے جس طرح نقصانات ہوئے اس طرح کی پھرتی یہاں دیکھنے میں نہیں آرہی بلکہ بظاہر ایسا لگ رہا ہے جیسے یہاں کسی حکومتی مشینری کا وجود ہی نہیں۔

اسی بارے میں