’پاکستان میں تو دوسرے درجے کے شہری تھے‘

Image caption گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان سے بھارت آنے والے تقریباً 1200 ہندوؤں کو دہلی میں واقع تین کیمپوں میں ٹھہرایا گیا ہے

حالیہ مہینوں میں بھارت کے دارالحکومت دہلی پہنچنے والے پاکستانی ہندوؤں نے بی بی سی کے زبیر احمد کو بتایا ہے کہ وہ مذہبی استحصال اور امتیازی سلوک کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

16 سالہ مالا داس کا جو مشکل سے اپنا نام لکھتی ہیں کہنا ہے کہ ’جب میں یہاں آئی تھی تو میں کچھ نہیں لکھ سکتی تھی لیکن آج میں اپنا نام لکھ سکتی ہوں۔‘

لیکن مالا کو حساب کتاب نہیں آتا کیونکہ جب اس سے پوچھا گیا کہ اسے بھارت آئے کتنا عرصہ ہوگیا ہے تو وہ اس بارے میں کچھ نہیں بتا سکی۔

اس کے خاندان اور ہمسایوں کے مطابق وہ سنہ 2011 میں صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد سے بھاگ کر بھارت آئے اور ان کے یہاں آنے کی وجہ ’ مذہبی اور ثقافتی استحصال کے علاوہ پاکستانی حکومت کی بےحسی بھی ہے۔‘

گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان سے بھارت آنے والے تقریباً 1200 ہندوؤں کو دہلی میں واقع تین کیمپوں میں ٹھہرایا گیا ہے اور ان میں سے اکثر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ان کو سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش تھا کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلوا سکتے تھے۔

70 سالہ بھگوان داس ان 71 لوگوں میں شامل ہیں جو تین ہفتے قبل دہلی پہنچے ہیں، ان کے دونوں بچے ناخواندہ ہیں۔

بھگوان داس کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ پاکستان میں دوسرے درجے کے شہریوں کی طرح کا سلوک کیا جاتا تھا۔

بھگوان داس کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ہمارے بچے سکول میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتے، ہمیں ہندو ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے، ہماری عورتوں جنسی طور پر حراساں کیا جاتا ہے۔‘

Image caption کیمپوں میں موجود زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ بھارت پہنچ کر خوش ہیں

دہلی میں پناہ گزینوں کے لیے بنائے گئے کیمپ میں ایک پرائمری سکول قائم ہے جہاں بچوں کو بنیادی تعلیم دی جاتی ہے۔

13 سالہ راجونتی اور کیمپ میں موجود دوسرے بچوں نے الزام لگایا کہ پاکستانی سکولوں میں انھیں قرآن پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور مسلمان بچے ان کے مذہب کا مذاق اڑاتے تھے۔

مالا کہتی ہے کہ وہ یہ دیکھ کر خوش ہیں کہ بھارت میں ہندو کھلے عام اپنے مذہبی رسومات ادا کر سکتے ہیں۔ ’یہاں ہندو بغیر خوف کے عبادت کر سکتے ہیں اور اپنے مذہبی تہوار منا سکتے ہیں لیکن پاکستان میں ہم گھر میں ہی عبادت کرتے تھے اور اگر ہم مندر جاتے بھی تو اپنے ہمسایوں سے چھپ کر جاتے تھے۔‘

پانچ ماہ قبل بھارت پہنچنے والے 18 سالہ ایشور لعل کا کہنا ہے کہ یہاں پہنچ کر وہ خود کو آذاد محسوس کر رہے ہیں۔ ’ یہاں ہمیں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ ہم آزاد ہیں۔‘

بھارت میں اس وقت کتنے پاکستانی ہندو رہ رہے ہیں اس بارے میں کوئی سرکاری اعداد وشمار موجود نہیں ہیں لیکن کئی برسوں سے چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں پاکستانی ہندو بھارت پہنچ رہے ہیں۔

بھارت آ کر یہ لوگ پہلے پناہ کی درخواست دیتے ہیں اور اس کے بعد یہاں کی شہریت کی۔

دوسری جانب پاکستان ہمیشہ سے کہتا رہا ہے کہ ہندوؤں کو وہاں کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے اور ان کے ملک چھوڑنے کی اطلاعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔

Image caption دہلی کہ کیمپوں میں رہنے والوں کو تاحال بھارتی شہریت نہیں دی گئی ہے

بھارتی حکومت کی جانب سے بی بی سی کو فراہم کی جانے والی معلومات سے پتہ چلا ہے کہ سنہ 2011 سے 2015 کے درمیان پناہ کے متلاشی 1400 پاکستانیوں کو بھارتی شہریت دی گئی ہے اور ان میں سے بڑی اکثریت کا تعلق ہندو مذہب سے ہے۔

دہلی کہ کیمپوں میں رہنے والوں کو تاحال بھارتی شہریت نہیں دی گئی ہے۔

ارجن داس کا کہنا ہے کہ ’ہم یہاں سنہ 2011 میں آئے تھے اور آتے ہی پناہ کی درخواست دی تھی، لیکن ابھی تک ہماری درخواست کو منظور نہیں کیا گیا۔بی جے پی کی حکومت جو ہماری ساتھ ہمدردی رکھنے کا دعویٰ کرتی ہے وہ بھی دوسری حکومتوں سے مختلف نہیں ہے، ہم بہت مایوس ہیں۔‘

فلاج جو حال میں ہی پاکستان سے دہلی پہنچے ہیں کا کہنا ہے کہ انھیں مایوسی ہوئی ہے کہ ’اب تک کوئی ہندو رہنما یا ہمسایہ ہم سے ملنے نہیں آیا ہے۔‘

ان کیمپوں میں موجود زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ بھارت پہنچ کر خوش ہیں یہاں وہ اپنائیت مسوس کرتے ہیں۔

فلاج کا کہنا ہے کہ زیادہ تر پاکستانی ہندو بھارت آنے کی خواہش رکھتے ہیں ’ ابھی محدود تعداد میں پاکستانی ہندو بھارت آئے ہیں لیکن لاکھوں ہندو پاکستان سے بھارت آنے کے موقعے کی تلاش میں ہیں۔‘

اسی بارے میں