’پاکستان کا طالبان پر اثرورسوخ ہے مگر کنٹرول نہیں‘

Image caption سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ رابطے کے حوالے سے افغان حکومت نے ابھی تک پاکستان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا

وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان کا طالبان پر کچھ اثرورسوخ ہے تاہم وہ انھیں کنٹرول نہیں کرتا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ ’طالبان کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ اب افغان حکومت کو کرنا ہے اور ہم اس سلسلے میں محض سہولت کار کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘

’افغان صدر چاہیں تو مذاکرت کی دوبارہ کوشش کر سکتے ہیں‘

’طالبان ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں‘

ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری کو افغانستان کی صورتحال پر تشویش ہے اور کوئی بھی عالمی طاقت افغانستان میں جنگ نہیں چاہتی۔

مشیر خارجہ کے مطابق پاکستان اور امریکہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان دوبارہ مذاکرات شروع ہونے کے حامی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور پاکستان افغان مصالحتی عمل کی مکمل حمایت کرتے ہیں تاہم اب یہ افغان حکومت کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بھی یہی چاہتی ہے یا نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ رابطے کے حوالے سے افغان حکومت نے ابھی تک پاکستان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔

ماضی میں افغان فوج کے سربراہ جنرل شیر محمد کریمی بی بی سی کے پروگرام میں یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ پاکستان طالبان کو کنٹرول کرتا اور ان کے رہنماؤں کو پناہ دیتا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے گذشتہ دنوں پاکستان پر اپنی سر زمین پر طالبان کو پناہ دینے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ ’ہمیں پاکستان سے امن کے پیغامات کی امید تھی لیکن ہمیں جنگ کے پیغامات مل رہے ہیں۔‘

حال ہی میں پاکستان کے وزیرِ اعظم نے بھی کہا ہے کہ اگر صدر اشرف غنی چاہیں تو پاکستان دوبارہ سے کابل اور افغان طالبان کےمابین مذاکرت کی میزبانی کی کوشش کر سکتا ہے۔

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ایک طرف ہم سے ان کو بات چیت کی میز پر لانے کو کہا جائے اور دوسری طرف ان کو مارنے کے لیے کہا جائے تو یہ ممکن نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلے بھی اس سلسلے میں کوشش کی تھی لیکن عین اسی وقت ملا عمر کی موت کی خبر سے سارا معاملہ رک گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے جولائی میں ہونے والے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا جس کا پہلا دور مری میں منعقد ہوا تھا۔

اسی بارے میں