چترال میں گدلا پانی اور بے سروسامانی

تصویر کے کاپی رائٹ Other

’ان پہاڑی علاقوں کے لوگوں کے لیے یہ وقت وہ ہے جب وہ آنے والے انتہائی سرد موسم کے لیے اشیا خوردونوش جمع کرتے ہیں۔ وہ تمام سامان گرتے مکانات کے ملبے تلے تباہ ہوگیا ہے۔ چشموں سے آنے والا پانی بھی زلزلے کے بعد سے مٹی سے بھرا ہوا ہے جس سے آگے چل کر بیماریوں کا خدشہ ہے۔‘

یہ کہنا ہے صوبہ خیبر پختونخوا کے رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے ضلعے چترال کی دور افتادہ وادی لاسپور کے ایک مقامی صحافی اور سماجی کارکن نور الہدیٰ کا۔ اپنے علاقے سے پیدل چل کر وہ مستوج پہنچے ہیں تاکہ تباہی کی کہانی دنیا کو بتا سکیں۔ ان کی وادی کے 300 مکانات کو 7.5 شدت کے زلزلے سے مکمل یا جزوی نقصان پہنچا ہے۔

مقامی آبادی چار روز اور تین راتیں سکولوں اور بچ جانے والی عمارتوں میں گزار رہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی بھی حکومتی اہلکار یا فوجی ہیلی کاپٹر ان کے علاقے نہیں آیا۔ سڑکیں مٹی اور پتھر کے تودے گرنے سے بند ہیں، اور متاثرہ علاقوں میں ٹیلیفون سروس بھی منقطع ہے۔

صوبائی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک چترال میں 32 ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ 1500 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ اس سے چند ماہ قبل چترال میں سیلاب نے بھی بڑی تباہی مچائی تھی۔ ابھی اس خطے کے لوگ اس سے بھی نہیں نکل پائے تھے کہ نئی قدرتی آفت نے انھیں آ لیا ہے۔

نور الہدیٰ نے بتایا کہ ’گاؤں نسحین میں 200 مکانات کو جزوی جبکہ 80 مکانات مکمل طور پر ایک علاقے میں تباہ ہیں اور متاثرین کھلے آسمان تلے راتیں گزارنے پر مجبور ہیں۔ کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پہلے دن آغا خان کا ایک ہیلی کاپٹر آیا تھا اور سات زخمیوں کو چترال لے گیا لیکن اس کے بعد ان کے پاس کوئی نہیں آیا۔

باقی لوگ اپنے زخمیوں کو کاندھوں پر مستوج شہر لا رہے ہیں۔ نور الہدیٰ کا کہنا تھا کہ ان کے علاقے میں ہلاکتیں تو نہیں ہوئیں لیکن زخمی بڑی تعداد میں لوگ ہوئے ہیں۔ ’کسی کی ٹانگیں ٹوٹی ہیں تو کسی کو سر پر چوٹیں آئی ہیں۔ نہ کوئی حکومت کا نہ غیرسرکاری تنظیم یہاں آئی ہے۔ صرف مقامی انتظامیہ سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جا رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ شاید زمینی راستے بند ہونے کی وجہ سے مدد نہیں پہنچ رہی لیکن انھیں یہ شکایت بھی تھی کہ راستے صاف کرنے والی مشینری اس جانب روانہ کر دی جاتی تاکہ راستے کھل جاتے اور لوگ اپنی مدد آپ کر سکتے۔

’ہم اپنی آواز ان تک نہیں پہنچا پا رہے ہیں اور ادھر عوام برے حالات میں پھنسے ہوئے ہیں۔‘

اپنی مدد آپ کے تحت مقامی لوگ وہاں پہلے سے آغا خان کے امدادی مرکز سے چند خیمے اور امداد حاصل کر پائے ہیں لیکن یہ بہت کم ہے۔ ’اسی پر لوگ گزارا کر رہے ہیں۔ کوئی سکول کے کمرے میں رہ رہا ہے تو کوئی گودام میں۔‘

نور الہدیٰ کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ ضرورت اس وقت ان کو پناہ کی ہے۔ ’اگر کوئی خیمہ یا جگہ مل جائے تو وہ اپنے آپ کو سردی سے بچا پائیں گے۔‘

حکام کی جانب سے آج بھی امداد سے لدا سی ون تھرٹی چترال بھیجے جانے کی خبر آئی ہے لیکن یہ امداد مستوج اور لاسپور کب پہنچے گی، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

اسی بارے میں