کوئٹہ میں دھماکے، قبائلی رہنما سمیت پانچ افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوئٹہ میں حالیہ برسوں میں تشدد کے بیشتر واقعات پیش آئے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کوئٹہ میں بم دھماکوں کے دو واقعات میں ایک قبائلی رہنما سمیت کم ازکم پانچ افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

قبائلی رہنما اور دیگر افرادکی ہلاکت کا واقعہ کوئٹہ شہر سے مشرق میں اندازاً 70 کلومیٹر دور مارواڑ کے علاقے میں پیش آیا۔

کوئٹہ میں انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد نے مارواڑ میں پیر اسماعیل کے علاقے میں بارودی سرنگ نصب کی تھی۔

یہ بارودی سرنگ اس وقت زوردار دھماکے سے پھٹ گئی جب ایک قبائلی رہنما میر گل خان بجارانی کی گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ دھماکہ سے گاڑی کو شدید نقصان پہنچا جبکہ اس میں سوار قبائلی رہنما اور ان کے محافظوں سمیت پانچ افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

تنظیم کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ قبائلی رہنما تنظیم کے ایک کمانڈر کی ہلاکت میں ملوث تھا۔ دیگر ذرائع سے تنظیم کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ادھر کوئٹہ شہر میں دو دھماکے ہوئے۔

کوئٹہ پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے سیٹلائیٹ ٹاؤن کے علاقے میں منی مارکیٹ کے قریب دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔ ان دھماکوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس کے مطابق دونوں ٹائم بم تھے جن میں سے ایک بم ایک کلو جبکہ دوسرا ڈیڑھ کلو وزنی تھا۔

اسی بارے میں