گوادر کے تحفظ کے لیے نئی سکیورٹی فورس کا قیام

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption گوادر بندرگاہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کی بندرگاہ کا انتظام چین کے حوالے کرنے کے بعد شہر کی سکیورٹی کے لیے فوج کے بریگیڈیئر کی سربراہی میں ایک نئی فورس تشکیل دی گئی ہے۔

گوادر سکیورٹی فورس کے نام سے قائم اس فورس کے انچارج بریگیڈیئر شہزاد افتخار بھٹی نے ہفتے کے روز ڈپٹی کمشنر آفس گوادر میں بلدیاتی نمائندوں اور شہر کے عمائدین سے ملاقات کی۔

حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق سکیورٹی فورس کے انچارج نے اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آرمی کو گوادر کی سکیورٹی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی گوادر کو محفوظ بنانے کےلیے مختلف منصوبوں پر عملدرآمد کررہی ہے اور سکیورٹی کا ایک مکمل نظام وضع کررہی ہے ۔

انھوں نے بتایا کہ سکیورٹی کے نئے نظام میں مقامی لوگوں کو گوادر ریذیڈنٹ کا رڈ جاری کیا جائے گا جبکہ دیگر شہروں سے گوادر آنے والوں کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جائے گا تاکہ گوادر کو ایک محفوظ شہر بنایا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر کے داخلی راستوں پر سکیورٹی چیک پوسٹ قائم کردی گئی ہیں تاکہ عوام اور غیرملکی سرمایہ کاروں کی حفاظت کےلیے اقدامات کیے جائیں۔

انھوں نے کہا کہ ’شہر کی سکیورٹی کے ساتھ سوشل سیکٹر پر بھی ہم توجہ مرکوز کررہے ہیں‘۔

ان کاکہنا تھا کہ’ہمارا وژن گوادر کے عوام کی ترقی ہے۔ عوام کے ساتھ مل کر ان کی ترقی اور خوشحالی کےلیے اقدامات کیئے جائیں گے۔ یہ ہمارے سٹیک ہولڈر ہیں ۔ان کے ساتھ مل کر ایک ٹیم کی شکل میں کام کریں گے تاکہ عوامی مسائل حل کرنے میں بہتر نتائج سامنے آسکیں‘۔

انھوں نے کہا کہ ’گوادر میں پانی کے بحران پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ زیرالتواء سوڈ ڈیم کا تعمیراتی کام شروع کردیا گیا ہے اور پائپ لائن بچھانے کےلیے پی ایچ ای اور ادارہ ترقیات گوادر لائحہ عمل طے کررہاہے جبکہ شادی کور ڈیم پر بھی سکیورٹی تعینات کرکے کام شروع کردیا گیا ہے جس کی تکمیل سے گوادر میں پانی کا بحران ہمیشہ کےلیے حل ہوجائے گا‘۔

انھوں نے کہا کہ چین کی حکومت کے ساتھ سوشل سیکٹر کی ترقی کے مختلف منصوبوں کے معاہدے بھی طے پائے ہیں۔

درایں اثنا چین کے ڈاکٹروں پر مشتمل ایک وفد نے ہفتہ کے روز گوادر کا دروہ کیا۔

وفد نے ادارہ ترقیات گوادر ہسپتال کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ادارہ ترقیات گوادر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سجاد بلوچ نے وفود کو جی ڈی اے ہسپتال کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

واضح رہے کہ گوادر ڈیوپلمنٹ اتھارٹی ہسپتال 50 بستروں پر مشتمل ہے اور چین اس ہسپتال کو 300بستروں پر مشتمل کرنے کےلیے معاونت سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی کےلیے بھی اقدامات کرے گا۔