افضل لالا: طالبان کے خلاف مزاحمت کی علامت

Image caption افضل خان لالا سنہ 1993 میں سوات سے قومی اسمبلی کے رکن رہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے وادی سوات سے تعلق رکھنے والے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما، بزرگ قوم پرست سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر محمد افضل خان 89 سال کی عمر میں انتقال کرگئے ہیں۔

مرحوم کے بھتجے ایوب خان آشاڑی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے چچا گزشتہ کچھ عرصہ سے علیل تھے جسکی وجہ سے انھیں چند روز قبل سی ایم ایچ راولپنڈی میں داخل کرا دیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ان کے چچا اتوار کی صبح سات بجے ہسپتال میں خالق حقیقی سے جا ملے۔ ایوب آشاڑی کے مطابق افضل خان ذیابیطس، بلند فشار خون اور کالے یرقان کے مرض میں کچھ عرصہ سے مبتلا تھے اور موت سے پہلے وہ چل پھر بھی نہیں سکتے تھے۔

مرحوم محمد افضل خان کو ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ اعلی فوجی افسران نے بھی شرکت کی۔

محمد افضل خان مرحوم عرف خان لالا کے نام سے مشہور تھے۔ ان کا تعلق سوات کے مٹہ تحصیل کے علاقے دروشخیلا کے ایک با اثر سیاسی اور خان خاندان سے تھا۔ ان کا شمار عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنماؤں میں ہوتا تھا۔

خان لالا نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1969 میں ریاست سوات کے پاکستان میں ادغام کے بعد کیا اور پہلی مرتبہ 1970 کے انتخابات میں سوات سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعد میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ مولانا مفتی محمود کی کابینہ میں صوبائی وزیر کے عہدے پر کام کیا۔ انھیں سوات سے پہلے رکن صوبائی اسمبلی کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

وہ دو مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے تھےاور وفاقی وزیر برائے امور کشمیر کے عہدے پر بھی فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔

تاہم وہ ایک دلیر اور مقبول رہنما کے طورپر اس وقت سامنِے آئے جب 2007 میں سوات میں شدت پسندوں کے اثر رسوخ کے باعث امن عامہ کی صورتحال بگڑنی لگی۔ سوات میں تقریباً تین سال تک حالات انتہائی خراب رہے اور ایسا وقت بھی آیا کہ وادی کے تقریباً تمام علاقوں تک شدت پسند پہنچ گئے۔ اس دوران سوات میں آپریشن اور طالبان کے خوف کے باعث لاکھوں افراد نے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لی۔ لیکن محمد افضل خان لالا وادی کے واحد سیاسی رہنما تھے جنھوں نے اپنا علاقہ نہیں چھوڑا اور سوات سے طالبان کے خاتمے تک وہاں اپنے گھر میں موجود رہے۔

خان لالا پر سوات میں طالبان کے دور میں پانچ مختلف قاتلانہ حملے کیے گئے تھے جس میں ان کے محافظ، ڈرائیور اور رشتہ دار مارے گئے تھے اور ایک حملے میں وہ خود بھی زخمی ہوئے تھے۔ ان کے مکان پر راکٹ حملے بھی کیے گئے تھے۔

اس دلیری پر انھیں حکومت پاکستان کی جانب سے تمغۂ شجاعت سے نوازا گیا تھا۔ خان لالا پشتون قوم پرست جماعتوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ وہ پشتونوں کی وحدت کے زبردستی حامی رہے ہیں اور اس ضمن میں لوگوں میں شعور بیدار کرنے کےلیے باقاعدگی سے سیمینار اور مباحثے بھی منعقد کرواتے رہے ہیں۔

نوے کے دہائی میں جب اے این اور مسلم لیگ نون کے درمیان پہلی مرتبہ اتحاد ہوا تو اس پر خان لالا کے پارٹی سے شدید اختلافات پیدا ہوئے اور انھوں نے پارٹی سے اپنی راہیں جدا کر لیں۔ افضل خان اس اتحاد کے سخت مخالف تھے جسکی وجہ سے وہ تقریباً پندرہ سال تک پارٹی سے ناراض رہے۔ تاہم بعد میں انھوں نے دوبارہ اے این پی میں شمولیت اختیار کی اور وفات تک اس پارٹی کی مشاورتی کمیٹی اور سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن رہے۔

اسی بارے میں