مکانات کی تعمیرِ نو میں پھر سے غلطی

Image caption اب تک لگائے جانے والے تخمینے کے مطابق دیر بالا میں مکمل طور پر تباہ ہونے والے مکانات کی تعداد 1200 ہے جبکہ 2500 کو جزوی نقصان پہنچا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر اپر میں زلزلے سے تباہ ہونے والے مکانات کی دوبارہ تعمیر میں ایک مرتبہ پھر عمارتیں بنانے کے ضوابط کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ متعلقہ محکمے اور متاثرین گھروں کی تعمیر پُرانے انداز میں کر رہے ہیں یعنی تعمیر بنیادوں اور مٹی گارے کے بغیر ہی کی جا رہی ہے۔

حُکام اِس بات کو تسلیم کرتے ہیں اگر دوبارہ زلزلہ آیا تو شاید یہی مکانات جھٹکے برداشت نہ کرسکیں۔

زلزلہ ، سردی اور چھت کے بغیر سکول

زلزلہ اسلام آباد کے لیے خطرے کی گھنٹی

پاکستان میں دریائے پنجکوڑہ کے ساتھ واقع ضلع دیر بالا کے ایک طرف تو دریا ہی ہے اور دوسری جانب پہاڑوں پر آبادی ہے۔ جب زلزلہ آیا تو اِس گنجان آباد علاقے میں کافی تباہی پھیلی۔ کئی مکانات تو ایک دوسرے پر آگرے۔

اب تک لگائے جانے والے تخمینے کے مطابق یہاں مکمل طور پر تباہ ہونے والے مکانات کی تعداد 1200 ہے جبکہ 2500 کو جزوی نقصان پہنچا ہے لیکن دیر بالا کے ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن آفسر ذکااللہ آفریدی کے مطابق یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔

’میں ایک اندازے سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ مکمل طور پر تباہ ہونے والے مکانات کی تعداد 2000 تک جا سکتی ہے جبکہ جن کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے وہ مکانات 3000 تک ہو سکتے ہیں۔‘

جن مکانات کو زلزلے سے جزوی طور پر یا پھر مکمل طور پر نقصان پہنچا ہے اُن کے مالکان دوبارہ اُنھیں بالکل اُسی انداز میں بنا رہے ہیں جس طرح وہ پہلے بنائے گئے تھے یعنی پہاڑی پتھروں کے اوپر بنیادوں اور بغیر مٹی گارے کے۔

Image caption ضلع اپر دیر میں 26 کتوبر کو آنے والے زلزلے سے 20 افراد ہلاک ہوئے

عوام اِس طرزِ تعمیر کو زلزلے کے باوجود اپنے وسائل کی کمی قرار دیتے ہیں۔ ضلع دیر بالا کے رہائشی لائق ذادہ اپنے تباہ ہوجانے والے گھروں کو دوبارہ پتھروں کے اوپر تعمیر کر رہے ہیں اور اِس میں سریہ یا مٹی گارے کا کوئی استعمال نہیں کیاگیا۔ ’دو تین سال میں ہم نے یہ گھر پتھروں سے بنایا تھا اب تباہ ہوگیا اب پھر بنا رہے ہیں۔ اگر دوبارہ زلزلہ آگیا اور نقصان ہوگیا تو یہ اللہ کی مرضی۔‘

امتیاز خان کا گھر جزوی طور پر تباہ ہوا تھا لیکن اُنھوں نے دوبارہ اُس کی دیواریں بالکل ویسی ہی بنا دیں جیسے وہ پہلے تھیں۔

’یہ 300 سال پُرانا گھر ہے اور اِس کی دیواریں بہت بڑی ہیں اور ہمارے وسائل اتنے نہیں ہیں کہ ہم اِسے پکا کر سکیں۔ ہم غریب ہیں حکومت غریب نہیں، اگر حکومت مدد کرئے گی تو ہم اِسے دوبارہ پکا کر کے بنا دیں گے۔‘ سنہ 2005 کے زلزلے کے بعد قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے ، این ڈی ایم اے نے ملک بھر بلڈنگ کوڈز جاری کیے تھے اور زلزے سے متاثرہ علاقوں یا فالٹ لائن پر جو مکانات تعمیر ہوئے وہ نئے کوڈز کے تحت ہی تعمیر ہوئے جن کی منظوری متعقلہ محکمہ دیتا ہے۔

لیکن ضلعی رابطہ کار افسر ذکاء اللہ خان کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر میں اب تک ایسی کوئی حکمتِ عملی طے نہیں کی گئی بلکہ یہاں اب کئی گھر پہلے کی طرز پر تعمیر بھی کئے جا چکے ہیں۔

Image caption جن لوگوں کے مکمل گھر تباہ ہوئے اُنھیں دو لاکھ روپے اور جن کےگھروں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا انھیں ایک لاکھ روپے کے چیک دیے جا رہے ہیں

’اگر تعمیرات اور بحالی کا ادارہ اِس میں دلچسپی لے تو ہم عمارتیں بنانے کے ضوابط کا نفاذ یقینی بنانے میں مدد کرسکتے ہیں لیکن موسم خراب ہونے والا ہے اور بارش اور برفباری کی پیش گوئی بھی ہے تو حکومت چاہتی ہے جلد از جلد لوگوں کو چھت فراہم کی جائے اِس لئے ہم آج جن لوگوں کے مکمل گھر تباہ ہوئے اُنھیں دو لاکھ روپے اور جن کےگھروں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا اُن کو ایک لاکھ روپے کے چیک تقسیم کر رہے ہیں۔‘

اُدھر صوبہ خیبر پختونخوا میں حزبِ اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ممبر صوبائی اسمبلی ثنااللہ خان حال ہی میں ضمنی انتخابات میں واڑئی کے حلقہ پی ایف 93 سے منتخب ہوئے ہیں۔ وہ حکومت کی جانب سے دیے جانے والے زرتلافی کو اونٹ کے منہ میں زیرہ قرار دیتے ہیں۔

ضلع اپر دیر میں 26 کتوبر کو آنے والے زلزلے سے 20 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 150 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

حُکام کا کہنا ہے کہ اِس زلزلے سے جانی نقصان اتنا نہیں ہوا جتنا مالی نقصان ہوا ہے لیکن اِس سے سنگین صورتحال سے وہ لوگ دوچار ہیں جن کےسر سے چھت چھن گئی ا ور شدید سردی کی نوید بھی سنائی دے رہی ہے۔

اسی بارے میں