میڈیا پر 72 کالعدم تنظیموں کی کوریج ممنوع: پیمرا کا حکم نامہ

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پیمرا حکام کا کہنا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے چینلوں کو جرمانے اور لائسنس کی معطلی جیسی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا نے تمام ٹی وی چینلوں اور ریڈیو سٹیشنوں کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ، جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن سمیت تمام 72 کالعدم تنظیموں کی کوریج نہ کریں۔

پیر کو جاری ہونے والے اس نوٹس میں کالعدم تنظیموں کی فہرست کے ساتھ پیمرا نے دو صفحات پر مشتمل نوٹس جاری کیا ہے۔

پنجاب میں 95 کالعدم تنظیمیں

60 کالعدم تنظیمیں اور فوجی عدالتیں

72 کالعدم تنظیموں کی بھی چانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

حکام نے کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ کے لیے میڈیا پر کسی بھی قسم کے اشتہارات چلانے کو بھی ممنوع قرار دیا ہے۔

پیمرا کی جانب سے بھجوائے گئے نوٹس کے عنوان میں ’نیشنل ایکشن پلان: کالعدم تنظیموں کی حیثیت اور دہشت گردوں کی فائنینسنگ کا جائزہ‘ درج ہے۔

پیمرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے سات نکات میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے جن میں کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ، جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن شامل ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے کل 60 تنظیموں کو کالعدم قرار دے رکھا ہے جبکہ دیگر 12 تنظیمیوں پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PDMA
Image caption پی ڈی ایم اے کی ویب سائٹ پر موجود تصاویر میں سیلاب متاثرین کے لیے امداد لے جانے والی تنظیمیوں میں فلاح انسانیت فاؤنڈیشن نمایاں دکھائی دے رہی ہے(فائل فوٹو)

حکام کا کہنا ہے کہ پیمرا کے ترمیمی آرڈینینس 2007 کے سیکشن 27 کے تحت کسی بھی ایسے پروگرام کو نشر کرنا یا س کا نشرِ مکرر ممنوع ہے جس سے لوگوں میں نفرت پیدا ہو یا نقضِ امن کا خدشہ ہو۔

نوٹس میں الیکٹرانک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی دفعہ تین کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس کے مطابق لائسنس رکھنے والوں کو اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ اس قسم کا مواد نشر نہ کیا جائے جولوگوں کو تشدد پر ابھارے، اس کی معاونت کرے، ترغیب دے اور اسے اچھا بنا کر پیش کرے۔

پیمرا حکام کا کہنا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے چینلوں کو جرمانے اور لائسنس کی معطلی جیسی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اگرچہ اس حکم نامے میں کالعدم تنظیموں یا ان سے منسلک امدادی اور فلاحی اداروں کی سرگرمیوں کی ترویج کا ذکر نہیں تاہم پاکستان میں زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کے موقعے پر کالعدم تنظیمیں امدادی کارروائیوں میں پیش پیش نظر آتی ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

گذشتہ ماہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں آنے والے شدید زلزلے کے دو روز بعد ملک کے وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے کہا تھا کہ ’ہمیں نہ کسی کی مدد چاہیے اور نہ ہی کسی قسم کی کالعدم تنظیم کو یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ زلزلے یا سیلاب کی آڑ میں اپنی زہرناکی پھیلاتے ہیں اس کو پھیلانے کی کوشش کریں۔ پاکستان میں وہ دور گزر گیا ہے، ضرب عضب کے نتیجے میں اس طرح کی تنظیمیں اپنی کمر بھی تڑوا چکی ہیں اور حکومت اپنے تمام کام اپنے اداروں کے ذریعے کرتی ہے۔‘

اسی بارے میں