’ادارے غیرموثر ہوں تو عمدہ قوانین کا کوئی فائدہ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی حاضر سروس چیف جسٹس نے سینیٹ سے خطاب کیا

پاکستان کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ پاکستان میں قوانین پر عمل درآمد سست روی کا شکار ہے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔

اُنھوں نے کہا کہ ایسے عمدہ قوانین کا کوئی فائدہ نہیں ہے جس پر عمل درآمد کروانے والے ادارے غیر موثر ہوں۔

نظامِ عدل کی تباہی: ’جج، وکلا اور حکومت ذمہ دار ہیں‘

سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر نظر ثانی کی قرار داد منظور

جسٹس جمالی نے یہ بات منگل کو پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی حاضر سروس چیف جسٹس نے سینیٹ سے خطاب کیا اور ان کے خطاب کے موقعے پر پوری سینیٹ کو ایک کمیٹی کی شکل دے دی گئی تھی۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس اپنی کارکردگی جانچنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے اور وہ کارکردگی دکھانے میں ناکام ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان اداروں کی ناکامی کی وجوہات میں انتظامی اور تکنیکی مہارت کے فقدان کے ساتھ ساتھ اختیارات کا ناجائز استعمال اور بدعنوانی بھی شامل ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ بات بھی قابل تشویش ہے کہ پاکستان میں انصاف کی فراہمی کے عمل میں معیار کی نگرانی کا بھی فقدان ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عام تاثر یہی ہے کہ قانون پر عمل درآمد کروانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے لیکن جہاں پر اختیارات کا ناجائز استعمال اور عدم مساوات ہو اور نظم و نسق کمزور ہوتو وہاں پر عدالت کو انتظامی امور میں بھی مداخلت کرنا پڑتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ قوانین پر عمل درآمد کی کمزوری کی وجہ ریاست کا تشکیل کردہ نظام انصاف صرف معاشرے میں جنم لینے والے تنازعات کا صرف 20 فیصد حصہ ہی نمٹانے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ باقی 80 فیصد تصفیے جرگے اور پنچایت جیسے غیر منظم اور بے ضابطہ ذرائع سے ہو رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ صورت حال نہ صرف نظامِ قانون سے بڑے پیمانے دوری کی عکاس ہے بلکہ ریاست، سماج اور عوام کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں کا سبب بھی ہے۔

جسٹس انور ظہییر جمالی نے کہا کہ اپنے بیشتر شہریوں کو انصاف کی فراہمی میں ریاست کی ناکامی ریاستی اداروں کے قیام پر سوالیہ نشان لگا دیتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قوانین پر عمل درآمد نہ ہونا خود ریاست کی عمل داری کو کمزور کرتا ہے جس کا نتیجہ امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے ساتھ ساتھ بعض علاقوں میں ریاستی گرفت کی دوری کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

اُانھوں نے کہا کہ حکومت اور پارلیمنٹ کو نظام کے نقائص دور کرنے کے لیے بہت زیادہ کام کرنا ہوگا تاکہ لوگوں میں پیدا ہونے والے عدم مساوات کے تاثر کو ختم کیا جا سکے۔

اسی بارے میں