انسانی زندگیوں سے کھیلتے جعلی ڈاکٹر

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

عمر کوٹ شہر سے باہر ایک پیٹرول پمپ کے ساتھ ٹائر پنکچر کی دکان میں ایک شخص ٹائر کی مرمت میں مصروف ہے، بظاہر وہ صحت مند نظر آتا ہے لیکن جیسے ہی کھڑا ہوکر ٹائر آگے بڑھاتا ہے تو لنگڑا کر چلتا ہے۔

اس شخص کا نام گیانچند مالھی ہے، جو پیدائشی معذور نہیں اور نہ ہی پولیو سے متاثر ہے بلکہ ایک عطائی ڈاکٹر کے انجیکشن کا نشانہ بن کر دونوں ٹانگوں سے معذور ہوگیا ہے۔

’جب میں 15 سال کا تھا کہ تو بخار ہوگیا اور والدین عطائی ڈاکٹر کے پاس لے گئے جس نے انجیکشن لگا دیا، اس کے بعد سے دونوں ٹانگیں کام نہیں کرتی تھیں، ایک سال تک چارپائی پر پڑا رہا۔ کئی سال علاج کرایا اس کے بعد ایک ٹانگ ٹھیک ہوگئی لیکن ایک سوکھ گئی ہے۔

عمر کوٹ میں برسوں گذرنے کے باوجود عطائی ڈاکٹروں کا مسئلہ جوں کا توں موجود ہے۔

گیانچند کی دکان سے صرف 15 کلومیٹر دور ولیدا پلی گاؤں میں ایک چھوٹے سے کمرے میں پرانا ٹیبل، کرسی، بینچ اور کونے میں دواخانہ موجود ہے۔ یہ عطائی ڈاکٹر تیرتھ کا کلینک ہے۔

تیرتھ کمار کسی طبی ادارے سے تربیت یافتہ نہیں، بلکہ ان کا کل تعلیمی اثاثہ وہ چند ماہ ہیں جو انھوں نے ایک ڈاکٹر کے کلینک پر گذارے۔ ہم جب وہاں پہنچے تو وہ ایک مریض کو انجیکشن لگا رہے تھے۔

تیرتھ کے مطابق ان کے پاس زیادہ تر اسہال اور بخار میں مبتلا مریض آتے ہیں۔’یہاں تو ہم 50 روپے میں انجیکشن لگا رہے ہیں اگر اس رقم میں بچہ ٹھیک ہوجائے تو پھر 1,000 روپے خرچ کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ ان غریبوں کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ شہر میں بڑے ڈاکٹر کے پاس جائیں اور ٹیسٹ بھی کروائیں۔‘

Image caption گیانچند ایک عطائی ڈاکٹر کے انجیکشن کا نشانہ بن کر دونوں ٹانگوں سے معذور ہوگئے

تیرتھ کے پاس روزانہ دس کے قریب مریض آ جاتے ہیں۔ پاکستان میں ڈاکٹروں کی تنظیم پی ایم اے کا دعویٰ ہے کہ صوبہ سندھ میں دو لاکھ عطائی ڈاکٹر موجود ہیں۔ اگر ہر عطائی کے پاس روزانہ کم سے کم دس مریض آجائیں تو اندازاً روزانہ 20 لاکھ لوگ عطائی ڈاکٹروں سے رجوع کرتے ہیں۔

سندھ میں سرکاری طور پر 825 افراد کے لیے ایک ڈاکٹر دستیاب ہے۔

سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج نہ صحیح تاہم سستا ضرور ہے لیکن یہاں پہنچنے کے لیے اتنا کرایہ لگ جاتا ہے جتنا عطائی ڈاکٹر کی فیس۔ عمرکوٹ ضلعی ہپستال میں بھی ڈاکٹروں کی کمی ہے جبکہ ادویات کی مد میں کرپشن کی تحقیقات جاری ہیں۔

میر پور خاص روڈ پر واقع چھوٹے سے قصبے راجہ رستی میں چار غیر تربیت یافتہ معالج موجود ہیں ہر کسی نے اپنے میڈیکل سٹور بھی کھول رکھا ہے۔

ان عطائی ڈاکٹروں میں سے ٹیکم کھتری کا کہنا تھا کہ وہ فرسٹ ایڈ فراہم کرتے ہیں جبکہ اسی دوران انھوں نے ایک بچے کا بخار چیک کیا اور اس کو دوائی بھی لکھ کر دے دی۔

Image caption عمر کوٹ میں برسوں گذرنے کے باوجود عطائی ڈاکٹروں کا سلسلہ جوں کا توں جاری ہے

صوبائی قانون کے مطابق رجسٹرڈ معالجین کے علاوہ کوئی بھی حکیم یا نیم حکیم، کمپاؤنڈر، نرس یا میل نرس ڈاکٹر کا لفظ استعمال نہیں کرسکتے اور اینٹی بائیوٹکس سمیت خطرناک ادویات کا نسخہ نہیں دے سکتے۔ قانون کے مطابق اس کی خلاف ورزی پر ایک سال قید و جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

حکام نے قانون سازی کے بعد عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی لیکن بعد میں سب معمول پر آ گیا۔

عمرکوٹ کی ضلعی ہیلتھ افسر ڈاکٹر مادھوری عطائی ڈاکٹروں کو مددگار قرار دیتی ہیں۔

’دور دراز علاقوں میں جہاں کوئی ڈاکٹر یا لیڈی ڈاکٹر موجود نہیں، وہاں صرف یہ عطائی موجود ہیں جو فرسٹ ایڈ فراہم کرتے ہیں۔یہ حاملہ خواتین کی زندگیاں بچاتے ہیں۔‘

عطائی ڈاکٹر نہ صرف غلط علاج کے ذریعے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں مبتلا کر رہے ہیں بلکہ ہیپاٹائٹس اور ایڈز سمیت دیگر موذی امراض پھیلانے میں بھی مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستان پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن کی عطائی ڈاکٹروں کی روک تھام کے لیے خصوصی کمیٹی موجود ہے جو شکایات کو متعلقہ محکموں تک بھیجتی ہے لیکن یہ کارروائیاں صرف کراچی تک محدود ہیں۔

کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالغفور شورو کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر تنظیموں کا کردار شعور اور آگاہی کے علاوہ کچھ نہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی فورس یا قانون پر عملدر آمد کے اختیارات نہیں۔یہ حکومت کا کام ہے۔

’ہم نے کوشش کی تھی کہ ایک ہیلتھ کمیشن بل بنا کر صوبائی حکومت کو دیں جس میں خامیاں دور کی گئیں لیکن بدقسمتی سے یہ قانون گذشتہ دو سالوں سے سرد خانے میں پڑا ہوا ہے۔

پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں حکومت کے اقدام کی وجہ سے عطائی ڈاکٹروں میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے لیکن سندھ میں اس مسئلے کو ابھی تک اتنی توجہ حاصل نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں