پاکستان میں قلمی مزاحمت

تصویر کے کاپی رائٹ istock

بھارت میں ان دنوں جسے دیکھو دھڑا دھڑ قومی و ادبی ایوارڈ واپس کر رہا ہے۔ یادداشتیں راشٹر پتی بھون بجھوا رہا ہے کہ سوچ پر پہرے بٹھانے اور فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھانے والی طاقتوں کو لگام دینے کے لیے مودی حکومت کو جھنجوڑا جائے۔

بھارت تو صرف ڈیڑھ سال میں اس گھٹن سے گھبرا گیا۔ پاکستان کے 68 میں سے 34 برس فوجی حکومتیں کھا گئیں اور بقیہ 34 برس سول آمریت ، نیم جمہوریت اور گھڑی بھر کے کھلے پن میں گزر گئے۔ آج تک پاکستانی بنیادی آزادیوں کی بحالی کے معرکے میں ہیں۔

مودی حکومت کے خلاف بطورِ احتجاج ایوارڈ واپس

تو کیا پاکستانی معاشرے کے کلیدی نمائندوں بالخصوص سماج کا ضمیر کہلانے والے لکھاریوں نے بھی اجتماعی سطح پر ویسی مزاحمت کی جیسی ان دنوں بھارت میں ہو رہی ہے؟

جب اکتوبر 1958 میں پہلا ایوب خانی مارشل لا لگا اور سیاست و صحافت و ادب کو اجتماعی زنجیروں میں جکڑنے کا پہلا مربوط تجربہ ہوا تو مارشل لا سے پہلے کی سویلین حکومتوں کے گربیان پکڑ کے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنے والوں میں سے زیادہ تر کو لیفٹ رائٹ سانپ سونگھ گیا۔

اپریل 1959 میں مارشل لا حکومت نے سکیورٹی ایکٹ کے تحت پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے اخبارات (پاکستان ٹائمز، امروز، لیل و نہار، سپورٹس ٹائمز) پر قبضہ کر لیا۔

لیل و نہار کے مدیر سبطِ حسن کو برطرف کردیا گیا جبکہ پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر مظہر علی خان اور امروز کے ایڈیٹر احمد ندیم قاسمی نے استعفی دے دیا۔ (پھر انھی قاسمی صاحب نے نو برس بعد جنرل ایوب سے تمغہ حسنِ کارکردگی اور انیس سو اسی میں جنرل ضیا سے نشان امتیاز سینے پر ٹکوایا)۔

یہ سب مطبوعات آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی ( اے پی این ایس ) کی رکن تھیں مگر احتجاج تو کجا اے پی این ایس غرائی تک نہیں۔ الٹا سب خوش تھے کہ ان اخبارات کے بند ہونے سے ہمارے اخبارات کی سرکولیشن بڑھے گی۔

Image caption بھٹو کے بعد آنے والے فوجی آمر ضیا الحق کو توگویا صحافتی مالکان کی شکل میں دست و بازو مل گئے

آمریت نے مزید حوصلہ پا کے 1963 میں پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس کے ذریعے آزادیِ اظہار کی زنجیر جی حضور بیورو کریسی کے حوالے کر دی۔

اس کے بعد جب بھی کوئی اخبار یا رسالہ بند ہوتا یا اشتہارات روکے جاتے یا نیوز پرنٹ کوٹہ کم کیا جاتا تو مضروب کے حمایتی احتیاطاً رسمی سا مذمتی بیان جاری کر دیتے۔ آزادیِ اظہار کی جدوجہد کا بھاری پتھر سیٹھوں نے کارکن صحافیوں کے سر پے رکھ دیا گویا مدعی سست گواہ چست۔

اگلے آمروں کو بھی معلوم ہوگیا کہ صحافت کتنے پانی میں ہے۔ چنانچہ ذوالفقار علی بھٹو کی سویلین آمریت نے بھی صحافت کے ساتھ وہی کیا جو جنرل ایوب خان نے وردی میں کیا اور بھٹو کے بعد آنے والے فوجی آمر ضیا الحق کو توگویا صحافتی مالکان کی شکل میں دست و بازو مل گئے۔

ایک بڑے اخباری مالک جنرل صاحب کی ناک کا بال ہوگئے اور ان سے بھی بڑے ایک اور مالک نے فنِ جی حضوری کو آمرانہ شیروانی پر گرنے والے کوک کا دھبہ صاف کرنے والا رومال بنا دیا۔

ضیا حکومت نے اکتوبر 1979 میں دوسری بار انتخابات کی تاریخ منسوخ کی اور اخبارات پر سنسر شپ نافذ کر دی۔ خلاف ورزی پر دس برس قید اور 25 کوڑے۔ مزاحمتی صحافی سلاخیں اور ٹکٹکی اور مالکان اشتہارات اور کاغذی کوٹے دیکھتے رہے۔

یکم جنوری 1982 کو حکومت نے خود ہی ترس کھا کے جبری سنسر شپ کی جگہ اخبارات کو سیلف سنسر شپ کا حق دے دیا (چنانچہ 1983 کی ایم آر ڈی تحریک اخبارات نے صدقِ دل سے بلیک آؤٹ کی)۔

24 فروری 1983 کو اخباری مالکان نے فوجی سیکریٹری اطلاعات جنرل مجیب الرحمان کے آگے عہد کیا کہ وہ سنسنی خیزی کم کرنے کے لیے اخباری صفحات آدھے کر دیں گے، فلم ایڈیشن اور خواتین کی قابلِ اعتراض تصاویر سے بھی اجتناب ہوگا۔ نیز ایسے مضامین شائع نہیں ہوں گے جن سے قومی اداروں، ملک یا اس کی نظریاتی تضحیک کا پہلو نکلے۔ اے پی این ایس کی سالانہ ایوارڈز تقریب کی صدارت جنرل ضیا الحق کا حق ہوگئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption احمد فراز نے 2004 میں جنرل پرویز مشرف سے ہلاِل امتیاز وصول کیا لیکن 2006 میں بلوچستان میں مداخلت کے خلاف احتجاجاً واپس کر دیا

مجھے نہیں یاد کہ ایک کارٹونسٹ وائی ایل کے سوا کسی صحافی، ایڈورٹائزر یا مالک نے جنرل ضیا کے ہاتھ سے صحافتی ایوارڈ وصول کرنے سے انکار کیا یا لے کر واپس کر دیا ہو۔

مگر صحافیوں کے برعکس تخلیق کاروں کے بارے میں سنا ہے کہ وہ تو ضمیر کے آگے اپنی بھی نہیں سنتے۔ انھوں نے تو یقیناً سیاہ رات صرف کاغذ پر نہیں لکھی ہوگی، کاغذ سے باہر بھی اجتماعی مزاحمت ضرور دکھائی ہوگی۔

جنوری 1959 میں ایوب خان کی مارشل لا حکومت کے بیورو کریٹ قدرت اللہ شہاب کی قیادت میں ادیبوں کی فلاح و بہبود کے لیے پاکستان رائٹرز گلڈ کی بنیاد رکھی گئی جس کے آٹھ بنیادی ارکان میں جمیل الدین عالی، غلام عباس اور قرۃ العین حیدر بھی شامل تھے۔

بھٹو کی پھانسی چار اپریل 1979 کو ہوئی اور گیارہ اپریل کو جنرل ضیا الحق اسلام آباد میں اکیڈمی آف لیٹرز کے پہلے کنونشن میں 200 ادیبوں کو لیکچر دے رہے تھے کہ نظریاتی مملکت کے لکھاری کو کیسا ہونا چاہیے۔

اکیڈمی کے بنیادی ارکان میں ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی، اے کے بروہی، حفیظ جالندھری، ڈاکٹر سید عبداللہ، احمد ندیم قاسمی، احسان دانش، شریف کنجاہی، ڈاکٹر نبی بخش بلوچ اور سردار خان گشکوری جیسے اسمائے گرامی شامل تھے۔

جنرل ضیا نے چھ اہلِ قلم کانفرنسیں منعقد کروائیں اور پانچ کی صدارت بقلم خود کی۔

ان کے دستِ مبارک سے تمغہ حسنِ کارکردگی وصول کرنے والوں میں انتظار حسین اور رئیس امروہوی بھی شامل تھے۔ انکار بس ایک سرائیکی شاعر اقبال سوکڑی ہی کر پایا۔

بےنظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں سرکردہ صحافتی مورخ ضمیر نیازی نے چھ اخبارات پر پابندی کے خلاف بطور احتجاج تمغہِ حسن ِ کارکردگی واپس کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption فیض احمد فیض کو سنہ 1990 میں بعد از وفات نشانِ امتیاز دیا گیا

احمد فراز نے 2004 میں جنرل پرویز مشرف سے ہلاِل امتیاز وصول کیا لیکن 2006 میں بلوچستان میں مداخلت کے خلاف احتجاجاً واپس کر دیا اور وکلا کی مزاحمتی تحریک میں بھی حصہ لیا۔

2006 میں اجمل خٹک، انتظار حسین، ضیا شاہد اور قاضی اسد عابد نے ستارہِ امتیاز قبول کر لیا۔

صحافی نسیم زہرہ نے ستارہِ امتیاز اور کالم نگار زاہدہ حنا نے تمغہِ حسن کارکردگی بلوچستان میں فوجی کاروائی کے خلاف بطور احتجاج جنرل مشرف کے ہاتھوں لینے سے انکار کردیا۔ اسی سال صحافی عامر میر نے جنرل مشرف کے ہاتھوں بہترین رپورٹر کا اے پی این ایس ایوارڈ وصول کرنے سے انکار کر دیا۔

2007 میں عدلیہ بحالی تحریک زوروں پر تھی مگر چودہ اگست کو جنرل مشرف کے ہاتھوں ایوارڈ لینے والوں میں انقلاب ماتری ( ستارہ امتیاز ) عبدالقادر جونیجو ، نور الہدی شاہ اور ڈاکٹر تنویر عباسی ( پرائیڈ آف پرفارمنس ) بھی شامل تھے۔

اس سے قبل مشرف حکومت نے مشتاق احمد یوسفی کو ہلالِ امتیاز ، پرویز ہود بھائی، کشور ناہید، گل خاں نصیر، ڈاکٹر نبی بخش بلوچ اور شوکت صدیقی کو ستارہ امتیاز، رحیم اللہ یوسف زئی اور حنیف خالد کو تمغہِ امتیاز اور جون ایلیا کو تمغہِ حسنِ کارکردگی عطا کیا۔

14 جنوری 2009 کو جب صدر زرداری نے امریکی نائب صدر جو بائڈن کو ہلالِ پاکستان سے نوازا تو عمران خان نے اپنا ہلالِ پاکستان واپس کرنے کا اعلان کیا(جانے لوٹایا بھی کہ نہیں)۔

نادر قمبرانی واحد بلوچ ادیب ہیں جنہوں نے بلوچستان کی صورتِ حال پر بطور احتجاج 2013 میں تمغہ ِحسن کارکردگی قبول کرنے سے انکار کیا جبکہ تازہ ترین مثال سندھی ادیب و مورخ عطا محمد بھانبرو کی ہے جنہوں نے اپنے بیٹے راجہ داہر کی جبری گمشدگی اور لاش ملنے کے بعد تمغہِ امتیاز ریاست کو لوٹا دیا۔

فیض احمد فیض (نشانِ امتیاز، 1990) ، حبیب جالب (نشانِ امتیاز، 2008) سعادت حسن منٹو (نشان ِ امتیاز، 2012) ، جوش ملیح آبادی ( ہلالِ امتیاز، 2012)۔ وفات کے بعد ان چاروں کو اس اطمینان کے ساتھ اعزازات چڑھائے گئے کہ اب کیسے واپس کریں گے!

اسی بارے میں