آواران زلزلے کے ادھورے وعدے

Image caption آواران میں 28 ستمبر 2013 کے زلزلے میں 616 افراد ہلاک ہوئے تھے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں حالیہ زلزلے کی خبر ابھی تک میڈیا پر چھائی ہوئی ہے اور نشریاتی اور ریاستی ادارے بھی متاثرین کی بحالی کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں لیکن آواران کے متاثرین سے دونوں نے جلد ہی نظریں چرالیں تھیں۔

بلوچستان کے ضلع آواران میں 28 ستمبر 2013 کے زلزلے میں 616 افراد ہلاک جبکہ 700 کے قریب زخمی ہوگئے تھے اسی طرح ہزاروں گھر مکمل یا جزوی طور پر متاثر ہوئے۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی ان دنوں آواران پہنچے اور شہر کو ماڈل سٹی بنانے کا اعلان کیا۔ انھوں نے متاثرین کو گھروں کی جلد تعمیر، شمسی توانائی کی فراہمی اور سڑکوں کا جال بچھانے کی یقین دہانی کرائی تھی اور ساتھ میں موجود وزیر اعلیٰ کو ہدایت کی تھی کہ وہ پاکستان فوج اور مقامی عمائدین سے معلوم کرلیں کہ سڑکیں کہاں کہاں بنائی جائیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گھر کی تعمیر نو کے لیے متاثرین میں سے ایسے بھی ہیں جنھیں یا تو صرف ایک قسط ملی یا سرے سے امداد ہی نہیں ملی

بلوچستان حکومت نے آواران میں ازسر نو تعمیراتی اتھارٹی قائم کی تھی جس کے پاس چار ارب کا بجٹ دستیاب ہے۔ پاکستان فوج نے گھر گھر جاکر متاثرین کی تصدیق کی جس کے بعد متاثرین کو چیک دیئے گئے۔

زلزلے سے ترتیج کا علاقہ بھی متاثر ہوا، جس کے نتیجے میں خداداد بلوچ کا نواسہ فوت ہوگیا تھا۔ ان کا کہنا تھا انھیں گھر کی تعمیر کے لیے صرف 80 ہزار روپے کی پہلی قسط ملی ہے، جبکہ باقی دو قسطوں کے بارے میں حکام کہہ رہے آج دیں گے کل دیں گے لیکن معلوم نہیں کہ کب دیں گے۔

لباچ کے علاقے میں ایسا کوئی بھی گھر نہیں تھا جو اپنی جگہ پر قائم رہے سکا ہو، یہاں ہزار کے قریب گھر منہدم ہوگئے۔

عبدالسلام بلوچ کا کہنا ہے کہ انھیں ایک بھی قسط نہیں ملی جبکہ علاقے کی25 فیصد آبادی بھی اس سے محروم ہے۔اگر وہ حکومت کے آسرے پر رہتے تو معلوم نہیں کیا ہوجاتا اس لیے انھوں نے مٹی اور گارے کے گھر بنالیے ہیں۔

زلزلے کے باعث اس پسماندہ علاقے میں پہلے سے ہی محدود صحت اور تعلیم کی سہولیات بری طرح متاثر ہوئیں جن میں 124 اسکول اور 45 صحت مراکز کی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آواران کو ماڈل سٹی بنانے کے اعلان پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوسکا

گذشتہ سال اخبارات میں ایک اشتہار شائع ہوا تھا جس میں آواران میں ٹیکنیشن، آپریٹر، وارڈ بوائے اور کمپاؤنڈر سمیت 52 ملازمین کی بھرتی کے لیے درخواستیں طلب کی گئیں تھیں۔

ضلعی ہیلتھ افسر ڈاکٹر نور محمد کہتے ہیں کہ ضلعی ہپستال میں ایکسرے اور لیبارٹری فعال ہے اور 14 ڈاکٹروں میں سے سات موجود ہیں۔بقول ان کے عمارت زلزلے سے محفوظ رہی تھی صرف تھوڑی دراڑیں آئیں تھیں، ہپستال کی مرمت فوج کر رہی ہے۔

ڈاکٹر نور محمد کے مطابق ضلعی ہپستال میں بہتری آئی ہے ایک ایک آپریشن تھیٹر بھی قائم کیا گیا ہے لیکن عملے کی کمی بدستور برقرار ہے جبکہ دیگر صحت مراکز کی تعمیر آخری مراحل میں ہے۔

مقامی صحافی شبیر رکشانی کہتے ہیں کہ ضلعی ہسپتال میں کچھ قدر بہتری آئی ہے، یہاں چھوٹے آپریشن ہو رہے ہیں لیکن جو بڑے آپریشن ہیں ان کے لیے لوگوں کو کراچی یا کوئٹہ جانا پڑتا ہے، تاہم عملے کی تعداد وہ ہی ہے جو پہلے تھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

اکتوبر 2013 میں پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف بھی یہاں پہنچے تھے انھوں نے آواران میں جدید ہپستال کے قیام کا اعلان کیا تھا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے۔ اس طرح ان کا نوجوانوں کو انٹرنشپ دینے کا وعدہ بھی وفا نہ ہوسکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آوران شہر کے علاوہ باقی آس پاس میں 24 گھنٹوں میں صرف 3 گھنٹے بجلی کی دستیابی ہوتی ہے

زلزلے کے بعد ریسکیو آپریشن زیادہ تر لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کیا جبکہ ریلیف میں شرکت کے لیے کئی مقامی اور ملکی تنظیمیں آگے آئیں لیکن انھیں کام کرنے کی اجازت نہیں مل سکی تاہم جماعۃ دعوۃ، جماعت اسلامی اور جیش محمد کے فلاحی ادارے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، الخدمت اور الرحمت ٹرسٹ کئی ماہ تک لوگوں کو راشن کی تقسیم میں سرگرم رہے اور عید قربان کے بعد روانہ ہوگئے۔

ہینڈز نامی غیر سرکاری تنظیم نے کم خرچے کے 4000 سے زائد گھر بنائے جن کا تجویز کردہ سائز دس بائی دس فٹ ہے۔ اسی طرح این آر ایس پی کی جانب سے بھی لوگوں کو بانس اور مقای پیش فراہم کیا گیا تاکہ وہ اپنے سائبان بناسکیں۔

ریاستی اداروں کو علیحدگی پسندوں کی مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا، ان تنظیموں نے ریاستی ادارے کو قبول کرنے سے انکار کیا تھا، جس کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر آپریشن کیا گیا جو وقتاً فوقتاً جاری رہتا ہے۔ اس آپریشن کے نتیجے میں زلزلے سے متاثرہ مشکے، گشکور اور ڈنڈار سے لوگوں کو نقل مکانی بھی کرنا پڑی۔

آواران کو جنریٹر کے ذریعے بجلی فراہمی کی جاتی تھی وفاقی حکومت نے قومی گرڈ اسٹیشن سے بجلی کی فراہمی اور شمسی توانائی متعارف کرانے کے اعلانات کیے تھے۔عبدالرشید بلوچ شہر سے صرف 2 کلومیٹر واقع گاؤں بیدی میں رہتے ہیں ان کے مطابق ابھی تک جنریٹر ہی بجلی فراہم کر رہے ہیں، آوران شہر کے علاوہ باقی آس پاس میں 24 گھنٹوں میں صرف 3 گھنٹے بجلی کی دستیابی ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شورش زدہ علاقوں میں رپورٹنگ کے لیے پیشگی اجازت کی ضرورت ہے اور آواران بلوچستان کا ان دنوں سب سے زیادہ شورش زدہ علاقہ ہے

خیبرپختونخوا میں انتطامیہ اور عسکری اداروں نے سڑکیوں سے رکاوٹیں ہٹاکر انہیں کلیئر کیا لیکن آواران میں تو سڑکوں کا ہی وجود نہیں تھا، شہر کے قریبی علاقوں میں بھی فور بائی فور گاڑیاں اس طرح سفر کرتی تھی جیسے سمندر میں کشتیاں ہچکولے کھاتی ہے۔

پاکستانی میڈیا کے نگران ادارے پیمرا کے حالیہ ضابطہ اخلاق کے مطابق شورش زدہ علاقوں میں رپورٹنگ کے لیے پیشگی اجازت کی ضرورت ہے اور آواران بلوچستان کا ان دنوں سب سے زیادہ شورش زدہ علاقہ ہے جہاں بلوچ لبریشن فرنٹ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مسلسل جھڑپیں جاری ہیں۔