پاکستان میں صحافیوں کے لیے پانچ ’محفوظ مراکز‘ بنانے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ناروے کی حکومت اس منصوبے کی مالی معاونت کرے گی

پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ملک کے چھ بڑے پریس کلبوں نے بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ کے تعاون سے ’سیفٹی ہبز‘ یا محفوظ مراکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور سب سے بڑا پروگرام ہے۔

اس فیصلے میں شامل چھ پریس کلبوں، اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان اور کوئٹہ کی رکینت ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی صحافیوں کی مجموعی تعداد کا نصف ہے۔

اس پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں پانچ بڑے پریس کلب منتخب کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں طے پانے والے معاہدے کے تحت سیفٹی ہبس پانچ ماہ کے لیے آزمائشی بنیادوں پر قائم کیے جائیں گے جہاں صحافیوں کو ملنے والی دھمکیوں کو ریکارڈ کیا جائے گا اور اس کی نوعیت کے تعین کے بعد فوری اگلا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

اس سے امید ہے کہ صحافیوں کو ملنے والی دھمکی کی نوعیت، اسے ریکارڈ پر لانے اور اس کا تجزیہ کرنے میں مدد ملے گی۔ اب کوئی بھی صحافی دھمکی ملنے پر اپنے قریبی پریس کلب میں اس کا اندراج کرا سکتا ہے جس کے بعد اسے ہر قسم کی مدد مہیا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

ناروے کی حکومت انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ یعنی آئی ایم ایس کے ذریعے اس منصوبے کی مالی معاونت کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سن دو ہزار سے 116 صحافی قتل کیے جا چکے ہیں

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سن 2000 سے 116 صحافی قتل کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ دو ہزار سے زائد صحافی اغوا، زخمی یا گرفتار کیے جاچکے ہیں۔

منتظمین کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار اخبارات میں شائع رپورٹوں کی بنیاد پر حاصل کیےگئے ہیں لیکن ان ’سیفٹی ہبس‘ کے قیام سے زیادہ مستند اعداد و شمار مل سکیں گے۔ اسی قسم کے ایک منصوبے پر ہمسایہ ملک افغانستان میں بھی عمل درآمد ہو رہا ہے۔

آئی ایم ایس کے جنوبی ایشا کے لیے مینیجر مارٹن آسٹرونگ نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ اس منصوبے سے دھونس و دھمکیوں کا ٹھوس ردعمل تیار کرنے میں مدد مل سکے گی۔ ’صحافیوں کو خطرات محض پاکستان میں نہیں لیکن پاکستان صحافیوں کو دھمکیوں پر کس طرح سے ردعمل ظاہر کرتا ہے اس سے دنیا کے دیگر ممالک کو بھی سبق مل سکتا ہے۔‘

بلوچستان میں بھی صحافیوں کو آئے روز دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کوئٹہ پریس کلب کے سیکرٹری جنرل عبدالخالد رند نے کہا کہ انھیں امید ہے اس سے بلوچستان کے صحافیوں کو جان بچانے کے لیے ضروری معلومات اور مدد مل سکے گی۔

پشاور پریس کلب کے صدر سید بخار شاہ نے نئے پروگرام کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس سے صحافیوں کو جلد اور مناسب ردعمل ظاہر کرنے میں مدد ملے گی۔ لاہور پریس کلب کے اسد انصاری نے بھی اس موقع پر ’سیفٹی ہبز‘ کی تائید کی۔

محفوظ مراکز قائم کرنے کا یہ معاہدہ ایک ایسے وقت ہوا جو اس سے دو روز قبل ہی بنوں میں قبائلی صحافی زمان محسود کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں امن عامہ کی صورتحال میں قدرے بہتری اپنی جگہ لیکن صحافیوں کے لیے خطرات آج بھی موجود ہیں۔

اسی بارے میں