ہلاکتوں کی تعداد 29، ’ملبہ ہٹنے میں مزید تین دن لگیں گے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

لاہور کے نواح میں واقع صنعتی علاقے میں منہدم ہونے والے چار منزل کارخانے کے ملبے سے اب تک 29 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ ملبا ہٹانے کا کام ابھی بھی جاری ہے۔

ڈی سی او لاہور کیپٹن ریٹائرڈ عثمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فیکٹری کا ملبا ہٹانے میں مزید تین روز لگیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ بدھ کی شام پیش آنے والے حادثے میں 29 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 100 سے زائد افراد کو ملبے میں سے زندہ نکالا گیا ہے۔

ڈی سی او لاہور نے بتایا کہ فیکٹری کے مالک کی لاش بھی نکال لی گئی ہے اور ان کی تدفین کا عمل جاری ہے۔

ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری: تصاویر

لاہور میں کارخانہ منہدم ہونے سے ہلاکتیں: تصاویر

انھوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق ملبے میں اب دس سے 15 افراد ہی رہ گئے ہیں۔ ریسکیو ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی شب چار مزید لاشیں نکالی گئی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس حادثے کے وقت کارخانے میں 150 سے 200 افراد موجود تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حادثے کے بعد لاہور کے سروسز، جناح اور شریف میڈیکل سٹی میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی

حادثے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے ارکان نے جمعرات کو جائے حادثہ کا دورہ کیا۔

جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں تاہم بی بی سی کی نامہ نگار شائمہ خلیل کے مطابق خدشہ ہے کہ اب ملبے تلے کوئی زندہ فرد نہیں رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے پنجاب ریسکیو سروس کے سربراہ ارشد ضیا نے کہا کہ ’24 گھنٹے گزر چکے ہیں اور اب زندگی کا امکان کم ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ چار منزلہ عمارت کی دو منزلوں کا ملبا ہٹایا جا سکا ہے تاہم خدشہ ہے کہ حادثے کے وقت پہلی منزل پر بہت سے مزدور موجود تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھاری مشینری کی مدد سے عمارت کی اوپری منزل کا ملبا ہٹایا جا رہا ہے

فیکٹری میں کام کرنے والے ایک مزدور نے اے ایف پی کو بتایا کہ 50 سے زیادہ مزدور عمارت کے ایک ایسے حصے میں سو رہے تھے جہاں پہنچنا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کام کرنے والوں میں 12 سال کی عمر تک کے بچے بھی شامل تھے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے مزدوروں سے بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیکٹری کے مالک کو ٹھیکیدار نے حالیہ زلزلے میں عمارت کی دیواروں پر پڑنے والی دراڑوں کے بعد بھی نئی منزل کی تعمیر روکنے کا مشورہ دیا تھا تاہم انھوں نے اسے نظر انداز کر دیا تھا۔

زندہ بچ جانے والے 22 سالہ مزدور رمضان کا کہنا ہے کہ انھوں نے عمارت کے منہدم ہونے سے چند لمحے پہلے اس میں دراڑیں پڑتے ہوئے دیکھی تھیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’میں نے فوراً مالک کی توجہ ان دراڑوں کی جانب مبذول کروائی، وہ انھیں دیکھ رہے تھے جب چھت منہدم ہوگئی، میں نے انھیں کنکریٹ کے نیچے کچلے جاتے ہوئے دیکھا جس سے ان کی موت واقع ہوگئی۔‘

16 سالہ محمد اصغر کے سر اور بازو میں چوٹ آئی ہے۔ انھیں حادثے کے 13 گھنٹوں بعد باہر نکالا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں سیڑھیوں کی جانب دوڑا مگر وہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی گر گئیں اور پھر پوری عمارت گر گئی، میں اپنے والد سے فون کے ذریعے رابطے میں تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئی ایس پی آر نے بی بی سی کو بتایا کہ حادثے کے بعد اب تک 103 افراد کو ملبے میں سے نکالا جا چکا ہے

جائے وقوعہ پر امدادی سرگرمیوں میں ریسکیو 1122، پاک فوج، ایدھی فاؤنڈیشن کے علاوہ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سمیت متعدد تنظیموں کے کارکنان شامل ہیں۔

حادثے کے بعد لاہور کے سروسز، جناح اور شریف میڈیکل سٹی میں ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی۔

ریسکیو کے اہلکار کا کہنا ہے کہ مذکورہ عمارت کی دو منزلوں میں شاپنگ بیگ بنانے کا کارخانہ قائم تھا اور چوتھی منزل کی تعمیر جاری تھی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ حال ہی میں آنے والے زلزلے سے اس عمارت کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔

اسی بارے میں