ریحام عمران پر ہاتھ نہیں اٹھاتی تھیں

تصویر کے کاپی رائٹ IMRAN KHAN OFFICIAL
Image caption عمران خان اور ریحام خان نے رواں برس فروری میں شادی کی تھی

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی ترجمان شیریں مزاری نے عمران خان اور ریحام خان کی علیحدگی کی وجوہات کے بارے میں میڈیا پر چلنے والی مختلف خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔

عمران اور ریحام کا طلاق کا فیصلہ

عمران ہمیشہ معصوم رہے گا

جمعرات کو ڈاکٹر شیریں مزاری کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا گیا کہ عمران خان اور ریحام خان، ان کے بچے اور ان کا خاندان علیحدگی کے عمل سے گزر رہے ہیں اور ایسے میں میڈیا کی قیاس آرائیاں اور افواہیں مایوس کن اور افسوس ناک ہیں۔

عمران خان کی ترجمان شیریں مزاری نے ان خبروں کی تردید کی جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ریحام خان کو رقوم کی ادائیگی ہوئی تھی اور یہ کہ ریحام خان عمران خان پر ہاتھ اٹھاتی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ریحام خان کی جانب سے عمران خان پر دست درازی کی خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں اور بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں۔‘

شیریں مزاری نے یہ بھی وضاحت کی کہ پی ٹی آئی کے کسی رہنما کا عمران اور ریحام کی طلاق کے عمل میں کوئی کردار نہیں۔

’تحریکِ انصاف کے بعض رہنماؤں کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ عمران خان اور ریحام خان کی علیحدگی کی وجہ بنے، بالکل من گھڑت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت نے نہ پہلے کبھی چیئرمین کی نجی زندگی میں مداخلت کی اور نہ ہی آئندہ اس کا کوئی امکان ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

خیال رہے کہ پاکستانی میڈیا کی خبروں اور ٹاک شوز میں گذشتہ ایک ہفتے سے ریحام اور عمران خان کی علیحدگی اور طلاق کا معاملہ ایک بڑے موضوع کے طور پر سامنے ہے۔

پی ٹی آئی کے وضاحتی اور مذمتی بیان سے قبل نجی ٹی وی چینل جیو نیوز نے ریحام خان کے قریبی ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین کا اس علیحدگی میں اہم کردار ہے۔

عمران خان اور ریحام خان نے گذشتہ جمعے ایک دوسرے سے علیحدگی کی تصدیق کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

دونوں شخصیات نے چند دن تک خاموش رہنے کے بعد منگل کو میڈیا کا سامنا کیا۔ تاہم جب ایک صحافی نے عمران خان نے ان کی مردم شناسی کے حوالے سے سوال کیا تو عمران خان نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی کی نجی زندگی پر بات کرنا باعث شرم ہے۔

مانچیسٹر میں میڈیا کانفرنس سے ریحام خان کے خطاب میں عمران خان سے علیحدگی پر کوئی بات سامنے نہیں آئی، تاہم میڈیا کی جانب سے ان کے چند جملوں کو اسی معاملے سے جوڑ دیا گیا۔

اس کے بعد ریحام خان نے اس اقدام کو شرمناک قرار دیا تھا لیکن انھوں نےگذشتہ روز نجی ٹی وی چینل کی جانب سے جہانگیر ترین کا نام لیے جانے پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔

اسی بارے میں